ڈمہ ڈولا حملے کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بدھ کی رات ہونے والے میزائل حملےمیں ہلاکتوں کے خلاف جماعتِ اسلامی نے جمعہ کو صوبۂ سرحد میں یومِ احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈمہ ڈولا میں تاحال عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور تاحال یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔ ڈمہ ڈولا میں بدھ کی شام ہونے والے میزائل حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بعض خبر رساں اداروں نے مقامی افراد اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ بتائی تھی۔ باجوڑ حملے کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ میں گزشتہ شب ہلاکتوں کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جب تک یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ دھماکے کی وجہ کیا تھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو خفیہ طور پر پاکستانی علاقے میں کارروائی کی اجازت دے رکھی ہے۔ ادھر جمعرات کو پشاور پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق نے مبینہ میزائل حملہ کی مذمت کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ حملہ امریکہ کے غیر پائلٹ کے طیاروں سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشان بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسے باجوڑ پر ہونے والا حملہ اسلام آباد پر حملہ تصور کرنا چاہیے لیکن حکومت نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے خلاف جماعت اسلامی جمعہ کو صوبہ سرحد کے تمام شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرے گی۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک صحافی حسبان اللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے سات افراد کی نمازِ جنازہ جمعرات کی صبح ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں مقامی آبادی نے شرکت کی۔
ڈمہ ڈولہ میں موجود ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈمہ ڈولہ کے گاؤں پوی کلی میں مسجد کے قریب واقع ایک کمرے کے حجرے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا ہے جب وہاں موجود افراد کھانا کھا رہے تھے۔ نامہ نگار نے مقامی طالبان اور عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ میزائل حملے میں سات افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان رہنما عمر خالد کے بھائی بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے تین افراد کا تعلق باجوڑ ایجنسی جبکہ چار کا باجوڑ ایجنسی سے بتایا جاتا ہے۔ باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ مقامی رہنما مولوی فقیر محمد نے پڑھائی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقامی طالبان نے میزائل کا نشانہ بننے والےگھر کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور کسی کو اس جانب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ افغانستان کے سرحد کے قریب واقع باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ہونے والا یہ تیسرا میزائل حملہ ہے۔اس سے قبل جنوری دوہزار چھ میں تحصیل مامون کے ایک سرحدی گاؤں میں اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے جبکہ اسی سال تیس اکتوبر کو چینگئی میں واقع ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کے مبینہ فضائی حملے میں اسی سے زائد طالبعلم ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں نے حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی تھی جبکہ پاکستان حکومت نے کہا تھا کہ مدرسہ کو انہوں نے حملے کا نشانہ بنایا کیونکہ اس سے’دہشت گردوں کی تربیت’ کے لیےاستعمال کیا جا رہا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ: ’تحقیقات پوری ہونے دیں‘15 May, 2008 | پاکستان وانا میزائل حملے میں اٹھارہ ہلاک16 March, 2008 | پاکستان وانا میزائل: طالبان کا بدلے کا اعلان17 March, 2008 | پاکستان کراچی کا ڈاکٹر وانا میں ہلاک23 March, 2008 | پاکستان ’طالبان کے تحت وانا میں امن‘15 April, 2008 | پاکستان فاٹا میں کارروائی: فیصلہ مؤخر 21 April, 2008 | پاکستان وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی29 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||