BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 May, 2008, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج پیچھے نہیں ہٹ رہی: جنرل

پاک فوج
ان علاقوں میں شرپسندوں کی دوبارہ کارروائی کی صورت میں فوج واپس ان علاقوں میں آسکتی ہے: جنرل طارق
پاک فوج نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے فوج پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے بلکہ وہ صرف اپنی جگہ تبدیل کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے علاقہ محسود میں پوزیشن تبدیل کرنے کے باوجود سکاؤٹس فورس مستقل طورپر ان علاقوں میں موجود رہے گی۔

پاک فوج کے میجر جنرل طارق خان نے اتوار کو ڈیرہ اسماعیل خان میں اسلام آباد اور پشاورسے آئے ہوئے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو جنوبی وزیرستان سے فوج کی واپسی کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے محسود کے علاقہ سپینکئی راغزئی، چگملائی اور کوٹ کائی میں جو آپریشن کیا تھا، اس کے بعد فوج نے وہاں اپنی پوزیشن بنالی تھی۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب فوج نے ان علاقوں میں اپنی جگہیں تبدیل کرکے جنڈولہ، سپنکئی، راغزئی اور سراروغہ روڈ کھول دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپلاتوئی اور سراروغہ سکاؤٹس قلعوں سے فوج ہٹا کر اس کو سکاؤٹس فورس کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی پوزیشن تبدیل کرنے کا مقصد ان علاقوں میں ہونے والے آپریشن کے متاثرین کو بحفاظت اپنے علاقے میں منتقل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران متاثرہ قبائلوں کے گھر اور فصلیں تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں شرپسندوں کی دوبارہ کارروائی کی صورت میں فوج واپس ان علاقوں میں آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اس وقت تک ان علاقوں سے واپس نہیں جائیگی جب تک وفاقی حکومت اس کی واپسی کے احکامات جاری نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں حکومتی رٹ کو بحال کرنے کے لیے فوج کو تعینات کیاگیا تھا اور فوج کے آنے سے ان علاقوں میں طالبانائزیشن کا عمل کافی حد تک رک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین اور سکیورٹی فورسز کے مغوی اہلکاروں کی رہائی ایک اچھا اقدام ہے اور اس کے لیے مذاکرات بھی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ اس بریفنگ سے ایک دن پہلے پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین کو مقامی طالبان کیساتھ رزمک کے مقام پر محسود جرگے کے کامیاب مذاکرات کے رہائی ملی اور اس سے تین دن پہلے سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکاروں کے رہائی کےبدلے بیت اللہ گروپ کے پچپن طالبان کو رہا کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد