BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 May, 2008, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفیر کی رہائی اور حکومتی دعوی

سفیر طارق عزیزالدین اور رحمان ملک
سفیر کی رہائی کی لیے کارروائی کی تفصیلات مناسب موقع پر بتائی جائیں گی
وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کو ایک’ کارروائی‘ کے نتیجے میں بازیاب کرا لیاگیا ہے لیکن ایک ایسی کارروائی تھی جس میں چلنے والی گولیوں کی آواز بھی سفیر صاحب سن نہیں پائے۔

بازیابی کے بعد طارق عزیزالدین جب رحمان ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے اپنی رہائش گاہ سے نمودار ہوئے تو مشیر داخلہ نے پرزور انداز میں یہ اعلان کیا کہ ’ان کی رہائی کسی ڈیل کے نہیں بلکہ ایک کارروائی کے ذریعے عمل میں آئی ہے’ مگر اس دوران ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رحمان ملک حکومتی مؤقف کو جلد سےجلد انگریزی زبان میں بیان کرنے کے لیے بیتاب ہیں تاکہ اس سلسلے میں امریکہ اور مغربی ممالک کے مبینہ خدشات کودور کیا جاسکے۔

مشیر داخلہ کی پوری کوشش تھی کہ جتنی جلدی ممکن ہو طارق عزیزالدین میڈیا سے ہونے والی اپنی گفتگو کو مختصر کرلیں تاکہ حکوتی پالیسی سے بے خبری کی وجہ سے ان کی زبان سے ایسی کوئی بات نہ نکل سکے جو کل کلاں حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکے۔

حکومت پاکستان کی اب بھی یہ پوری کوشش ہے کہ پاکستانی میڈیا سفیر طارق عزیز الدین کی رہائی کی حکومتی خبر پر ہی اکتفا کرلے۔

حکومت نے فوری طورپر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی مبینہ کاروائی کے بارے میں تفصیلات جاری نہ کرکے ان شکوک و شبہات کو مزید تقویت پہنچائی ہے کہ طارق عزیزالدین کو’ بھاری رقم’ دیکر یا بعض مبینہ شدت پسندوں کی رہائی کے بدلے میں بازیاب کرالیا گیا ہے۔

بی بی سی کو معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ طارق عزیزالدین کو تین روز قبل جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سنگم پر واقع انتہائی سگلاخ پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے حامل شکتوئی کے علاقے میں رکھا گیا تھا جنہیں جمعہ کی شب ایک ڈیل کے بعد تحصیل لدہ کے شگی گاؤں میں قبائلی عمائدین نےحکومتی اہلکاروں کے حوالے کیا تھا۔انہیں بعد میں رزمک فوجی کیمپ پہنچایا گیا جہاں سے انہیں ضلع بنوں اور بعد میں اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔

طارق عزیزالدین کی جنوبی وزیرستان میں موجودگی کے دوران وہاں پر طویل عرصے سے کسی قسم کی کوئی کارروائی کی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے بلکہ حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں اس علاقے سے فوج کے انخلاء کی خبریں مل رہی ہیں جس کے لیے فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس’فوج کی ری ایڈجسمنٹ‘ کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔

مبصرین کے بقول طارق عزیزالدین کی آپریشن کے ذریعے بازیابی کے متعلق حکومتی مؤقف کا مقصد اغواء کارروں کے ساتھ اندرون خانہ ہونے والی ڈیل پر پردہ ڈالنے کے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک کو یہ باور کرانا ہے کہ انہوں نے رقم کے عوض عسکریت پسندوں کی مالی معاونت نہیں کی ہے اور نہ ہی خطرناک شدت پسندوں کو رہا کیاگیا ہے۔

آپریشن کے بارے میں تفصیلات بتانے سےگریز کرنے کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت سوچ سمجھ کر ایک ایسی کہانی پیش کرنا چاہتی ہے جس کے جال میں وہ بریگیڈیئر(ر) جاوید اقبال چیمہ کی طرح نہ پھنسے جنہوں نے پہلے تو یہی بتایا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت گاڑی کے لیور سے سر لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے اور بعد میں انہوں نے اپنی ہی بات واپس لیتے ہوئے اس پورے معاملے میں حکومت کے کردار کو مشکوک بنادیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد