سفارتکار طارق عزیز الدین کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقےخیبر ایجنسی سے تقریباً تین ماہ قبل اغواء کیے جانے والےافغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین رہا ہونے کے بعد راولپنڈی میں اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ طارق عزیز الدین بازیاب ہوکر اپنے گھر آئے تو ان کے گھر کے باہر ان کے عزیز واقارب اور میڈیا کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اپنے گھر کے باہر مشیر داخلہ رحمان ملک کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اغوا کرنے والے مقامی طالبان تھے اور موجودہ حکومت کی کوششوں سے اُن کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ طارق عزیز الدین نے کہاکہ وہ گذشتہ چار پانچ دنوں کے دوران یہ محسوس کر رہے تھے کہا اُن کے اغوا کاروں میں بےچینی پائی جاتی ہے اور وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستانی حکومت نے پارا چنار میں کارروائی کرکے اچھا نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں طارق عزیز الدین نے کہا کہ شدت پسندوں کی طرف سے ان کی جاری ہونے والی ویڈیو ڈرا دھمکا کر لی گئی تھی اور اس ویڈیو میں انہوں نے وہی کچھ کہا جو شدت پسندوں نے کہا تھا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ حکومت کے بقول انکی بازیابی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی وجہ سے ہوئی ہے اور کیا انہوں نے اس کارروائی میں فائرنگ کی آواز سنی تھی تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اسی دوران مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ پاکستانی سفیر خیر و عافیت سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں ’یہی کافی نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے بارے میں میڈیا کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ مشیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی سفیر کی رہائی کسی ڈیل کے ذریعے نہیں بلکہ ایک کارروائی کے ذریچے عمل میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طارق عزیز الدین کو جمعہ کے روز بازیاب کرایا گیا تھا۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ طارق عزیز الدین کے ڈرائیور اور گن مین کو بھی رہا کروا لیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں واقع طارق عزیزالدین کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طارق عزیزالدین کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ انہیں حکومت پاکستان نے مطلع کیا ہے کہ مغوی سفیر کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بتایا تھا کہ طارق عزیز الدین حکومتِ پاکستان کے پاس ہیں۔ طارق عزیزالدین دس فروری کو اپنے محافظوں کے ہمراہ افغانستان جاتے ہوئے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے اغوا کیے گئے تھے اور دو ماہ دس دن تک لاپتہ ہونے کے بعد ان کی پہلی ویڈیو دبئی میں قائم العربیہ ڈی وی پر نشر کی گئی تھی جس میں انہوں نےحکومتِ پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے طالبان کے مطالبات تسلیم کر لے۔ ویڈیو میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ڈرائیور اور محافظ سمیت طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہیں آرام دہ حالات میں رکھا گیا ہے اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ طارق عزیز الدین نے کہا تھا کہ’انہیں دل کی تکلیف ہے اور ہائی بلڈ پریشر کی بیماری بھی لاحق ہے۔‘ اگر چہ طالبان کے کسی خاص گروپ نے انکے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ وہ تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی تحویل میں ہیں تاہم تحریک طالبان نے آج تک اسکی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ انکی رہائی کی خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت اور طالبان کے درمیا ن مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے آپس میں قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ طارق عزیز الدین کو سفارتی حلقوں میں ایک قابل اور زیرک سفارتکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ افغانستان سے ان کے نسلی تعلق، فارسی اور پشتو زبانیں پر عبور اور وہاں پر پہلے بھی خدمات کومدنظر رکھتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے انہیں تیرہ دسمبر دو ہزار پانچ کو رستم شاہ مہمند کی جگہ کابل میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا تھا۔ | اسی بارے میں ’سفیر کا اغواء دوسری بار ہوا‘13 February, 2008 | پاکستان سفیر کے بدلے بارہ افراد کی رہائی کامطالبہ19 April, 2008 | پاکستان سفیر کی رہائی، طالبان کی شرائط20 April, 2008 | پاکستان طارق عزیز الدین کی تلاش جاری13 February, 2008 | پاکستان سفیر لاپتہ، غفلت پر خاصہ دار گرفتار14 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||