خیبرایجنسی میں مذہبی کمانڈر قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی تنظیم لشکر اسلام کے حامیوں نے ایک اور مبینہ شدت پسند تنظیم انصار الااسلام کے اہم کمانڈر کو سرِ عام گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے گوگرنہ میں پیش آیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انصار اسلام کے ایک اہم کمانڈر مولانا مستعمین کو آٹھ ماہ قبل پشاور سے لشکر اسلام کے حامیوں نے اغواء کیا تھا جس کے بعد سے وہ ان کے تحویل میں تھے۔ منگل کی صبح مولانا مستعمین کو لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کے مرکز گوگرنہ میں لوگوں کے سامنےگولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ مولانا مستمعین کا شمار انصار الاسلام کے اہم کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ لشکر اسلام اور انصار اسلام کی طرف سے تاحال اس قتل پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر ایجنسی کے دو میبنہ شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے مابین کافی عرصہ سے مسلکی اختلافات چلے آرہے ہیں جس میں اب تک دونوں طرف درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں کوہاٹ قبائلی تصادم، متعدد ہلاکتیں27 March, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں فائر بندی17 April, 2008 | پاکستان ’مقامی طالبان کے ہاتھوں تین ہلاک‘19 April, 2008 | پاکستان یواین اہلکاروں کا اغواءاور بازیابی21 April, 2008 | پاکستان باڑہ میں مدرسے پر خودکش حملہ01 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||