خیبر ایجنسی میں فائر بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مذہبی تنظیم لشکر اسلام اور کوکی خیل قبیلے کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی طے پاگئی ہے۔ تحصیل جمرود سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز کی جھڑپوں کے بعد بدھ کی دوپہر مقامی مشران کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں دونوں فریقوں نے شرکت کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ کی کوششوں سے متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی ہوگئی ہے جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ ادھر تحصیل جمرود میں جھڑپوں کے بعد بندوبستی علاقے میں پیدا شدہ صورتحال پر غوروغوض کےلیے جمعرات کو فرنٹیر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے قبائلی علاقے میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ قبائلی علاقے کی اس آگ کو بندوبستی علاقے تک نہ پھیلنے دیا جائے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ایریا کے گرد مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کی منظوری دی اور حکم دیا کہ دیوار کی تعمیر پر مزید وقت ضائع کئے بغیر عملی کام شروع کیا جائے تاکہ رہائشی اور انڈسٹریل علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ خیبرایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی کا سلسلہ عارضی طورپر بند ہے تاہم متحارب گروہ ایک بار پھر شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوگئے ہیں اور رات کو شدید لڑائی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بدھ کی رات جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس کے قریب بتائی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا کہ سکیورٹی فورسز آج دوپہر کے وقت شاہ کس کے علاقے میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں موجود لشکر اسلام کے مسلح حامیوں کے بنائے ہوئے مورچوں کے سامنے پوسٹیں بنانی شروع کردئیں۔ ادھر لشکر اسلام کے کمانڈر منگل باغ نے ایف ایم ریڈیو سے تقریر میں سکیورٹی فورسز کو شام تک علاقہ چھوڑ دینے کی مہلت دی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذہبی تنظیم کی جانب سے دھمکیوں کے بعد باڑہ سب ڈویژن میں تعینات زیادہ تر حاضہ دار اور لیوی اہلکار ڈیوٹیاں چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمرود تحصیل سے لائن افسر سمیت پندرہ خاصہ دار اہلکاروں کو بھی اغواء کرلیا ہے۔ دوسری طرف کشیدگی کی وجہ سے شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں سے مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شاہ کس سے ملحقہ پشاور کے علاقے حیات آباد سے بھی لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ حیات اباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں اسی کے قریب کارخانے بھی بند ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے متاثرہ علاقے میں تمام تجارتی مراکز اور بازاربند ہیں جبکہ جمرود تحصیل میں تمام تعلیمی ادارے اور نجی و سرکاری دفاتر بھی بند ہیں۔ خیبرایجنسی کے سنگم پر واقع پشاور شہر کا ایک بڑا تجارتی مرکز کارخانو مارکیٹ بھی کشیدگی کی وجہ سے مکمل طورپر بند ہے۔ | اسی بارے میں کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری 07 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی میں جنگ بندی بےاثر08 April, 2008 | پاکستان کرّم:گرفتاریاں اور عارضی جنگ بندی06 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: امن جرگے کی آمد03 April, 2008 | پاکستان فرقہ وارانہ جھڑپیں، ہلاکتیں05 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||