BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 April, 2008, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں جھڑپیں جاری

پاکستان قبائلی علاقہ فائل فوٹو
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اب تک 250 لوگ مارے گئے ہیں۔
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں امن جرگہ کی جانب سے فریقین کے مابین عارضی فائر بندی کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں مزید ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے متحارب قبائل کے مورچوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے۔

لوئر کرم ایجنسی کے صدر مقام صدہ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہنگو کے شعیہ سنی مشران پر مشتمل امن جرگے نے فریقین کے مابین عارضی فائر بندی کرائی تھی جس کے بعد شام تک فائرنگ کا سلسلہ بند تھا۔

تاہم رات کے وقت بالش خیل، صدہ، سنگینہ اور خوارکلی کے علاقوں میں فریقین نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے جس سے علاقے میں دوبارہ شدید لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بالش خیل کے علاقے میں ایک مارٹر گولہ گرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارہ چنار میں تعینات سکیورٹی فورسز نے لڑائی روکنے کےلیے فریقین کے مورچوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے تاہم اس کے باوجود رات گئے تک علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

فائربندی کا اعلان تو ہوا لیکن لڑائی بند نہیں ہوئی

ادھر کرم ایجنسی میں موجود ہنگو امن جرگہ نے جنگ بندی پر عمل درامد کےلئے پیر کی صبح ایک مرتبہ پھر متحارب فرقوں کے مشران سے بات چیت کی ہے۔

امن جرگہ کے ایک رکن شاہ حسین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے مشران نے جرگہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شام تک تمام مورچوں سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔

علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے تمام اہم شاہراہیں گزشتہ ایک ماہ سے مکمل طورپر بند پڑی ہیں جبکہ اکثر علاقوں میں اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت کے علاوہ بجلی کی ترسیل بھی معطل ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پشاور اور دیگر علاقوں تک پہچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صدہ بازار بھی لڑائی کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے مکمل طورپر بند ہے۔

سنیچر کی صبح پارہ چنار سے فوج کی نگرانی میں پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر نامعلوم بم حملے اور اس کے بعد شروع ہونی والی فرقہ وارانہ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد