آر اے بازار دھماکہ، بیت اللہ کے وارنٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے منگل کے روز تھانہ آر اے بازار میں فوجی ہیڈ کورارٹر کے قریب خود کش حملے کے مقدمے میں قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ مذکورہ قبائلی شدت پسند کو اکیس اپریل تک گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے بصورت دیگر ان کو اشہاری قرار دیا جائے گا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر دو ملزمان جن میں محمد رفاقت اور حسنین گل شامل ہیں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں پیش کیا گیا۔ انہیں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا اور عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکیس اپریل تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ اسی عدالت کے جج چودھری حبیب الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود سمیت دیگر پانچ ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دے چکے ہیں۔ عدالت نے بینظیر بھٹو کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی اور اس مقدمے کے سماعت اب اڈیالہ جیل میں ہوا کرے گی۔ ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات میں راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے اس مقدمے میں حسنین گل اور محمد رفاقت سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے علاوہ راولپنڈی میں فوجی اہلکاروں پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی ملوث تھے۔ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایس پی رانا شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود، حسنین گل اور محمد رفاقت بینظیر بھٹو کے قتل کے علاوہ آر اے بازار خودکش حملہ اور گالف کلب کے سامنے جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کے گھر کے باہر ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ چار دسمبر سنہ دو ہزار سات کو راولپنڈی کے علاقوں آر اے بازار چوک اور قاسم مارکیٹ میں ایک ہی وقت میں دو خود کش حملے ہوئے تھے۔ آر اے بازار میں ہونے والے خودکش حملے میں دس افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے جبکہ قاسم مارکیٹ میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں بیس افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک25 February, 2008 | پاکستان پنڈی حملہ:’مشتبہ افراد زیرِ حراست‘05 February, 2008 | پاکستان راولپنڈی: خودکش حملہ، سات ہلاک04 February, 2008 | پاکستان ایمرجنسی، فوج پر حملوں میں اضافہ15 December, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||