BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اپوزیشن کا کام کریں گے: اچکزئی

محمود خان اچکزئی اور قاضی حسین احمد (فائل فوٹو)
اے پی ڈی ایم کی بیشتر جماعتوں نے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یا اے پی ڈی ایم کے کنوینر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اتحاد موجودہ حکومت کے لیے فی الحال حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گا۔

پختون قوم پرست راہنما کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم کے راہنما اچھے کاموں کی حمایت اور عوامی مفادات کے خلاف کاموں پر لوگوں کو سڑکوں پر لے آئیں گے۔

اے پی ڈی ایم شامل زیادہ تر جماعتوں نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے والہانہ استقبال پر بلوچستان کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت حکومت میں شامل دیگر جماعتیں مری معاہدہ اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججوں کو بحال کروائیں گی، عدلیہ کی آزادی جمہوریت کے قیام اور ابتدائی مرحلے میں آئین کو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کی حیثیت میں لانے کے لئے کوشش کریں گی۔

جب ان سے پوچھا کہ اگر موجودہ حکومت یہ سب کام نہ کر سکی تو اے پی ڈی ایم کا لائحہ عمل کیا ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ اول تو انہیں امید ہے کہ یہ سب کام ضرور ہوں گے لیکن اگر کسی وجہ سے عوامی مفادات کا خیال نہ رکھا گیا تو اس وقت اے پی ڈی ایم اصل حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیکی کے کاموں میں حمایت اور بدی کے کاموں کی سخت مخالفت کی جائے گی۔

عوامی مفادات
 عوامی مفادات کا خیال نہ رکھا گیا تو اس وقت اے پی ڈی ایم اصل حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔ نیکی کے کاموں میں حمایت اور بدی کے کاموں کی سخت مخالفت کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی
اس امریکی بیان پر کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکہ حملے کر سکتا ہے، محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک امریکہ سمیت تمام قوتیں افغانستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک تسلیم نہیں کر لیتیں۔ ان کے بقول قبائلی علاقوں میں بھی لوگوں کو اختیار دینا ہوگا، اور پاکستان کی ان تمام قوتوں کو سچ بولنا ہوگا جو اس کی ذمہ دار ہیں۔

محمود خان نے ان قوتوں کا نام نہیں لیا اور کہا کہ یہ سچ میرے یا آپ کے بولنے سے نہیں بلکہ اصل ان قوتوں کو بولنا چاہیے اور صدق دل سے توبہ کرنی چاہیے کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔

اے پی ڈی ایم کے انتخابی بائیکاٹ کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ فیصلہ بالکل درست تھا اور اسی بائیکاٹ کے نتیجے میں دھاندلی سے پاک انتخابات ممکن ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اُس وقت کے حکمرانوں کا منصوبہ مکمل دھاندلی کا تھا لیکن انتخابات سے ایک یا دو روز پہلے ایک ٹیلیفون کے ذریعے دھاندلی رکوائی گئی۔ یہ دھاندلی کس نے رکوائی اس بارے میں محمود اچکزئی نے کچھ نہیں بتایا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد