جسٹس افتخار کوئٹہ پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمد چودھری کا طیارہ کوئٹہ ایئر پورٹ پہنچ چکا ہے۔ ایئر پورٹ کے نزدیک اے این پی، جے یو آیی ایف اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنان اپنی پارٹیوں کے پرچم اور بینرز اٹھائے کھڑے ہیں اور افتخار محمد چودھری کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ پارٹیوں کے بینرز پر ’سولہ کروڑ عوام کی ضرورت، معطل شدہ ججوں کو آئینی کام کی اجازت، اور عدلیہ کو بحال کرو‘ کے نعرے درج ہیں۔ جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں وکلاء افتخار محمد چودھری کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کے پاس ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری گزشتہ سال نو مارچ کے بعد سوموار کو پہلی مرتبہ کوئٹہ پہنچے ہیں۔ ان کی کوئٹہ آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کوئی ڈیڑھ سال بعد اپنے شہر کوئٹہ پہنچے ہیں۔ گزشتہ سال نو مارچ کو ان کے خلاف صدارتی ریفرنس اور پھر تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے وہ کوئٹہ نہیں آئے ہیں۔ کوئٹہ میں ان کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ کے مطابق بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں وکلاء جسٹس افتخار چودھری کے استقبال کے لیے صبح دس بجے سے ہی ایئر پورٹ پر پہنچ گئے تھے۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں، تاجر تنظیموں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی جسٹس افتخار چودھری کا والہانہ استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے پی ڈی ایم کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ کے مطابق جسٹس افتخار چودھری کی عدلیہ کی آزادی کے لیے جاری جدو جہد میں بلوچستان کے لوگ انہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ کے مطابق جٹس افتخار چودھری اسلام آباد سے کوئی ساڑھے گیارہ بجے کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچیں گے جہاں سے انہیں جلوس کی صورت میں شہر لایا جائے گا جہاں وہ وکلاء کنونشن سے خطاب کریں گے اور اگلے روز بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔ باز محمد کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس افتخار چودھری اور دیگر ججز کی رہائش گاہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے بعد جب جسٹس افتخار چودھری سے وکلاء نے ملاقاتیں کیں تو چودھری افتخار نے سب سے پہلے کوئٹہ آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے حالانکہ انہیں کئی دیگر مقامات سے بھی دعوت نامے موصول ہوئے ہیں۔ جٹس افتخار چودھری بلوچستان میں ایڈووکیٹ جنرل اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ یہاں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہنے کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے ہیں۔ باز محمد کاکڑ کے مطابق جسٹس افتخار چودھری وکلاء کنونشن سے خطاب کے علاوہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ | اسی بارے میں جسٹس رمدے کے لیے احتجاج31 March, 2008 | پاکستان وکلاء کے لیے دراب پٹیل ایوارڈ30 March, 2008 | پاکستان چاروں صوبوں میں وکلا کا احتجاج27 March, 2008 | پاکستان رکاوٹیں ہٹ گئیں، جج ’آزاد‘24 March, 2008 | پاکستان ’خلیل رمدے کا گھر زبردستی خالی‘29 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||