BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 March, 2008, 21:56 GMT 02:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کے لیے دراب پٹیل ایوارڈ

وکلاء کی تحریک نو مارچ کو شروع کی گئی تھی
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نےملک میں عدلیہ کی آزادی، آئین کی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے پر وکلا برادری کو دراپ پٹیل ایوارڈ دیا ہے جو وکلاء کی جانب سے ان کے رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نے وصول کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے ایوارڈ دینے کا فیصلہ وکلاء برادری کی اس تحریک کے اعتراف کے طور پر کیا تھا جو نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی کے بعد شروع ہوئی اور بیس جولائی کو جسٹس افتخار محمد چودھری کے بحال ہونےسے کامیاب ہوئی۔

ایوارڈ دینے کی تقریب میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے منیر اے ملک کو ایک لاکھ روپے کا چیک بھی دیا۔منیر اے ملک نےایوارڈ اور اس رقم کو کراچی کے ان دو وکلاء پرویز اخترکیانی اور راجہ ریاض کے نام کردیا جنہوں نے وکلاء تحریک کے دوران اپنی جان گنوادی تھی۔

جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو پاکستان میں حقوق انسانی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس دراب پٹیل مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں شروع کیا گیا تھا۔ منیر اے ملک کوتین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعدگرفتار کرلیا گیا اور دوران حراست انہیں کسی قسم کی سہولت لینے سے انکارکردیا اور اسیری کے دوران شدید علیل ہوگئے اور ان تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

 جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو پاکستان میں حقوق انسانی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس دراب پٹیل مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں شروع کیا گیا تھا۔

منیر اے ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی تحریک لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کی تحریک ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلاء نے جو تحریک شروع کررکھی ہے وہ کامیاب ہوگی۔

ان کے بقول آزاد عدلیہ ہی عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں عدلیہ فوج کی بی ٹیم کا کام کررہی تھی اور اسی وجہ سے نظریہ ضرورت وجود میں آیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وکلاء تحریک نے ججوں کو باور کرایا ہے کہ وہ کوئی سرکار کی نوکری نہیں کررہے بلکہ ان کا کام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کو اقتدار کے لیے واشگنٹن کی بجائے پاکستان کی عوام کی طرف دیکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سفرکی منزل عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حکمرانی ہے جس کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے اور وکلا برادری کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ دراب پٹیل اوارڈ کے لیے منتخب کیے گئے۔

تقریب سے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے بھی خطاب کیا۔

واضح رہے کہ منیر اے ملک سے قبل جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کو سنہ دوہزار دو میں دیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد