BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چاروں صوبوں میں وکلا کا احتجاج

لاہور میں وکلا کا احتجاج
وکلا نے کتبے اور بینز اٹھا رکھے تھے جن پر چیف جسٹس کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف عبارتیں درج تھیں
پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے لیے چاروں صوبوں میں وکلا نے جمعرات کو ہفتہ وار احتجاج کیا۔

وکلا تنظیموں کے فیصلے کی روشنی میں وکیلوں نے مکمل ہڑتال کی اور جلوس نکالے۔ وکلا کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے کارکن، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ بھی شامل ہوئے۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے ایوان عدل سے جلوس نکالا جو پنجاب اسمبلی کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔

وکلا کا جلوس جب جی پی او چوک پہنچا تو اس میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان بھی شامل ہوگئے۔

وکلا ’رہا کرایا ہے بحال بھی کرائیں گے‘، ’گو مشرف گو‘ اور ’چیف تیرے جان نثار بے شمار بے شمار‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

وکلا نے کتبے اور بینز اٹھا رکھے تھے جن پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف عبارتیں درج تھیں۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمان پر زور دیا کہ وہ وکلا سے تیس دنوں کی گنتی نہ کرائے بلکہ تیس دنوں سے پہلے عدلیہ کو بحال کر دیا جائے۔

وکلا اپنے رہنماؤں کی تقاریر کے بعد پرامن طور پر منشتر ہوگئے۔

ادھر کراچی میں وکلا نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منقعد کیے جن میں وکلا رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے ججوں کی بحالی میں امریکی مداخلت کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ملازمت میں کسی قسم کی کمی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ احتجاجی اجلاس کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ سے ایم اے جناح روڈ تک مارچ کیا۔

دوسری جانب سے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی کی قیادت میں وکلا کے وفد نے جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی اور انہیں کراچی آنے کی دعوت دی۔

رشید رضوی کے بقول جسٹس افتخار محمد چودھری نے دعوت کو قبول کر لیا ہے، تاہم تاریخ کا اعلان کوئٹہ بار سے خطاب کے بعد کیا جائے گا۔

پشاور اور کوئٹہ میں وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس کیے جن میں عدلیہ کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔

وکلاء کی ہڑتالہفتہ اظہار یکجہتی
کراچی میں وکلاء کا مکمل بائیکاٹ
وکلاء کا مظاہرہاحتجاج جاری
ججوں کی نظربندی کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد