’ججوں پر کوئی دباؤ نہیں ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکتسان میں تین نومبر کے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ اپنے عہدوں پر بحال ہونے کے بعد ان پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوگا اور وہ فرائض اُسی طرح ادا کرتے رہیں گے جس طرح وہ ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ادا کرتے تھے۔ ججز کالونی میں اپنے گھر میں چار ماہ سے زائد عرصہ قید رہنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں شاکراللہ جان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو بحال کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ججز ارکان پارلیمنٹ کے تابع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جج کو اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں اور اگر وہ کسی دباؤ میں آکر آئین اور قانون کے خلاف کوئی اقدام کرتا ہے تو پھر ایسے شخص کو جج رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جسٹس شاکراللہ جان نے کہا کہ جب وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو ان کے بیٹے نے ایک تعلیمی ادارے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دینا چاہی لیکن انہوں نے رجسٹرار کو کہہ دیا تھا کہ ان کے بیٹے کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور نہ کیا جائے تاکہ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ ایک چیف جسٹس اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نومنتحب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے گھروں میں نظر بند ججوں کی رہائی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج جو ان کے ہمسائے ہیں ان میں سے کسی نے بھی انہیں ابھی تک مبارکباد نہیں دی۔
پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ایک اور جج جسٹس سردار رضا خان کا کہنا ہے کہ وکلاء اور سول سوسائیٹی کے ارکان نے جس طرح ججوں کی بحالی کی تحریک کو کامیاب بنایا اس کے بعد ان ججوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو صحیح معنوں میں اُس وقت ہی آزاد قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ تمام دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق کام کریں۔ سپریم کورٹ کے ایک اور معزول جج جسٹس جاوید اقبال جو اس وقت پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین ہیں کا کہنا ہے کہ اگر پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج بحال ہوئے تو وہ بھی بحال ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سنئیر جج ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ کیوں قبول کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدلیہ کی بہت خدمت کی ہے اس کے بعد انہوں نے سوچا کہ ذرائع ابلاغ کی بھی کوئی خدمت کی جائے۔ واضح رہے کہ معزول جسٹس جاوید اقبال کو پہلے حکومت نے ان کے گھر میں نظر بند کیا تھا بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا اور انہیں پریس کونسل کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ادھر ججز کالونی میں معزول چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ وکلاء اور سول سوسائیٹی کے ارکان ان سے ملاقات کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں جن میں جسٹس ناصرالملک، جسٹس تصدق حسین جیلانی ، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس میاں شاکراللہ جان نے بھی افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی۔ جامعہ حفصہ کی طالبات بھی معزول چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر پر پہنچی لیکن افتخار محمد چودھری نے ان سے یہ کہہ کر ملنے سے معذرت کرلی کہ چونکہ جامعہ حفصہ کا معاملہ عدالت میں ہے اس لیے وہ اُن سے ملاقات نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نےچیف جسٹس ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے اندر پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج صاحبان اپنی ڈیوٹیوں پر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری سمیت دیگر جج صاحبان آج بھی سپریم کورٹ میں جاکر اپنے فرائض منصبی ادا کرسکتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ جس دن معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے پارلینمٹ میں قراردار پیش ہو اُسی روز صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بیس جولائی سنہ دو ہزار سات کو ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا جب سپریم کورٹ نے افتخار محمد چودھری کو صدارتی ریفرنس میں بحال کیا تھا اس کے بعد اٹھارہ فروری سنہ دو ہزار آّٹھ کو عام انتخابات کے نتائج کے بعد اور پھر جب قومی اسمبلی میں یوسف رضا گیلانی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایوان میں صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی ہوئی تھی اس کے بعد انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بہت جلد ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کریں گے۔ | اسی بارے میں رکاوٹیں ہٹ گئیں، جج ’آزاد‘24 March, 2008 | پاکستان ججز کالونی سے رکاوٹیں ہٹ گئیں24 March, 2008 | پاکستان ’صدر مشرف بیرونی دروازے پر‘25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||