پاکستان میں وکلاء کا احتجاج جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو پاکستان بھر کی وکلاء تنظیموں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار یوم احتجاج منایا۔ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بارایسوسی ایشن کی سطح پر جلوس نکالے۔ وکلا کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے ارکان، طلباء اور تاجروں نے شرکت کی۔ پنجاب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے گوجرانوالہ کی ضلعی بار جبکہ پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چئیرمین علی احمد کرد نے لاہور کی ضلعی بار سے خطاب کیا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ وکلاء کا سیاہ پرچم ظلم کے خلاف جہاد کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ مری کی خلاف ورزی کی گئی تو وکلاء لانگ مارچ کریں گے۔ اعتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے معاملہ پر شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل ملک محمدقیوم کو ٹی وی پر مناظرے کی دعوت دی۔ ادھر صوبائی دارالحکومت لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔
علی احمد کرد نے اپنے خطاب کے بعد وکلاء کےاحتجاجی جلوس کی قیادت کی جو ایوان عدل سے شروع ہوا اور ریگل چوک پر ختم ہوگیا۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ کراچی میں جمعرات کے روز وکلاء تنظیموں نے ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا، کراچی بار میں وکلاء کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سن دوہزار میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں میں سے کوئی بھی جج بحال ہونے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں رخنہ ڈالنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے واضح کیا کہ’نہ صرف جسٹس افتخار محمد چودھری بلکہ ایک اگر چڑیا کا بچہ بھی فارغ کیا گیا ہے تواس کےعلاوہ کسی کی بحالی کو قبول نہیں کریں گے۔‘ جسٹس وجیہہ الدین احمد نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کےاس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی سے کوئی بھی بحران پیدا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر عدلیہ کو تین نومبر کی صورتحال پر بحال کیا گیا تو پاکستان میں یہ عدلیہ کا ایک نیا جنم ثابت ہوگا۔ وکلاء تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بعد میں سٹی کورٹس سے ایک ریلی نکالی گئی، جس کے شرکاء ججوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ’بارہ مئی کے قاتلوں کو پھانسی دو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ریلی کا اختتام کراچی پریس کلب پر ہوا۔ پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں۔ وکلا نے عدالتوں میں ہڑتال کی اور علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔ پشاور میں بھی وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ بلیک فلیگ ویک کے سلسلہ میں پشاور ہائی کورٹ بار اور ضلعی بار کی عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ کوئٹہ میں ضلعی کچہری سے وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت بلوچستان ہائیکورٹ بار کے صدر حادی شکیل اور بلوچستان بار کے صدر باز محمد کا کڑ نے کی۔ یہ ریلی شہر کی مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئے ضلعی کچہری پر جاکر ختم ہوئی۔ |
اسی بارے میں سیاہ پرچم لہرانے کی مہم جاری10 March, 2008 | پاکستان ہفتہ بھرعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ10 February, 2008 | پاکستان معزول ججوں کے حق میں مظاہرہ28 January, 2008 | پاکستان کراچی: دکانیں بند،گاڑیاں نذرِ آتش07 February, 2008 | پاکستان سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ09 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||