سیاہ پرچم لہرانے کی مہم جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججوں کی بحالی کے سلسلے میں ہفتہ سیاہ پرچم لہرانے کے دوسرے روز بھی ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد میں وکلاء نے اپنے چیمبرز اور ڈسٹرکٹ بار کے اوپر سیاہ پرچم لہرانے کے علاوہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ راولپنڈی میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جہاں پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے وکلاء نے نہ صرف عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا بلکہ احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ یہ احتجاجی ریلی ڈسٹرکٹ بار سے شروع ہوئی جو راولپنڈی پریس کلب پر جاکر ختم ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ بھی اُٹھا رکھے تھے جس پر آزاد عدلیہ کے حق میں اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نےمعزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے حق میں نعرے لگا ئے۔ وکلاء برادری نے اتوار کے روز پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماوں کے درمیان ججوں کی بحالی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے حق میں نعرے لگائے۔
وکلاء کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر سردار عصمت اللہ خان نے کہا کہ وکلاء کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کو نہ صرف ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا بلکہ ان کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شائد دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر عدلیہ کو قید کردیا گیا ہے اور اس اقدام کی وجہ سے ملک کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ سردار عصمت اللہ نے اتوار کے روز معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کےقریب مظاہرین پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دارا پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری نے معزول چیف جسٹس کو ان کے گھر میں نظر بند کرنے کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، وزیر داخلہ ، سیکرٹری داخلہ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلی حکام کے خلاف درخواست دی ہوئی ہے اور اگر آئندہ چند روز میں اس پر کوئی کارروائی نہ ہوئی تو وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں دعوی دائر کریں گے۔ اسلام آباد میں بھی وکلاء نے ضلع کچہری میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ | اسی بارے میں عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی24 February, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے‘26 February, 2008 | پاکستان جسٹس (ر) طارق کی نظر بندی ختم26 February, 2008 | پاکستان اعتزاز احسن کا موبائل پیغام29 February, 2008 | پاکستان عمران کی قیادت میں وکلاء احتجاج29 February, 2008 | پاکستان ہفتۂ اظہارِ یکجہتی 09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||