BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر مشرف کا مواخذہ کیا جائے‘

وکلاء فائل فوٹو
وکلاء نے جلوس کے بعد دھرنا بھی دیا
کراچی کے وکلاء نے ہفتہ احتجاج کے دوسرے روز پیر کو مرکز میں حکومت بنانے والی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین توڑنے کے جرم میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا مواخذہ کریں۔

یہ مطالبہ پیر کو ہفتہ سیاہ پرچم کے سلسلے میں کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس میں منظور کردہ متفقہ قرار داد میں کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری نعیم قریشی کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو ملک میں مارشل لاء لگا کر نہ صرف عدلیہ پر حملہ کیا بلکہ آئین کو بھی توڑا اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔

قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر پرویز مشرف معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبس بے جا میں رکھنے کے جرم کے بھی مرتکب ہیں جس کی انہیں سزا ملنی چاہیے۔

 وکلاء نے فیصلہ کیا ہے کہ اعلان مری کے باوجود تمام معزول ججوں کی بحالی تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے

دریں اثناء وکلاء نے کراچی کی تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور ڈسٹرکٹ بار کے ارکان نے سٹی کورٹس سے ایم اے جناح روڈ تک احتجاجی جلوس نکالا اور جلوس کے اختتام پر دھرنا بھی دیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بار کے عہدیداروں نے اعلامیہ مری کا خیرمقدم کیا اور اسے عوام کی فتح قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ عوام کا مطالبہ اور ضرورت ہے جس پر اعلان مری کے ذریعے نواز شریف اور آصف علی زرداری نے مہر لگادی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اب انشاء اللہ جمہوریت پنپے گی، عوام کو ان کے حقوق حاصل ہوں گے اور آئین کی بالادستی ہوگی‘۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے پیر کو ہائی کورٹ کے احاطے میں جلوس نکالا اور وہاں قائم مختلف عدالتی دفاتر پر سیاہ جھنڈے لہرائے۔

ہائی کورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی نے بتایا کہ جس دوران وکلاء مختلف دفاتر کی عمارتوں پر سیاہ جھنڈے لگا رہے تھے پولیس نے ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت کے دروازے بند کردیے اور وکلاء کو بار کے دفتر پہنچنے کے لیے ایک دروازہ توڑنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء نے فیصلہ کیا ہے کہ اعلان مری کے باوجود تمام معزول ججوں کی بحالی تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
وکلاء کی ہڑتال
’اقتصادی مشکلات کے باوجود تحریک جاری‘
وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
وکلاء کا مظاہرہاحتجاج جاری
ججوں کی نظربندی کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ
احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
جسٹس افتخار چودھریوکلاء کی مشکل
مبینہ ڈیل کی خبریں پی پی کے وکلاء کا امتحان
اسی بارے میں
ہفتۂ اظہارِ یکجہتی
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد