BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 March, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

عدلیہ کی بحالی کے لیے مظاہرے
وکلاء نےعدلیہ کی آزادی اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا
برطرف شدہ ججز کی بحالی کے لیے اتوار کے دن ملک بھر میں وکلاء، سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

اسلام آباد میں پولیس نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ کے باہر ان کے ساتھ 'یوم یکجہتی افتخار، منانے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔

پولیس نےاس مظاہرے میں شریک وکلاء، سیاسی کارکن اور سول سوسائٹی کے اراکین کو افتخار چودھری کے گھر کے باہر کھڑی رکاوٹوں کے ساتھ روکنے کی کوشش کی۔ جب پولیس نے آنسو گیس پھینک کر انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی اور دونوں اطراف نے ایک دوسرے پر پتھر برسائے ۔

مظاہرین معزول چیف جسٹس کی رہائش گاہ تک پہنچ کر انہیں خراج تحسین کے طور پر پھول پیش کرنا چاہتے تھے۔لیکن پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

مظاہرین میں وکلاء کے علاوہ تحریک انصاف کے کارکن اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔

عزیز اللہ خان ،کوئٹہ

کوئٹہ میں ججز کی بحالی کے لیے آج جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے ’بلیک فلیگ ویک‘ کاآغاز ضلعی عدالت میں سیاہ پرچم لہرا کر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ اور وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی نو مارچ کے حوالے سے ایک سیمینار سے خطاب کیا ہے اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

آج صبح جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کراچی سے کوئٹہ پہنچے تو وکلاء کی ایک بڑی تعداد نےان کا استقبال کیا جس کے بعد انھیں ضلعی عدالت لے جایا گیا جہاں انھوں نے سیاہ پرچم لہرایا ہے۔

وکلا ءنے اس موقع پر بازوؤں اور سر پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

جسٹس افتخار چوہدری کے بھتیجے عامر رانا ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صبح سویرے جب وکلاء عدالت میں سیاہ پرچم لہرا رہے تھے توانتظامیہ کے اہلکاروں نے وہ سیاہ پرچم اتارنا شروع کر دیے۔

اس کے علاوہ آج کوئٹہ پریس کلب میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر انتظام سیمینار سے سیاسی قائدین اور وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کیا ہے جس میں عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر دہرایا گیا ہے۔ اس سیمینار سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی نیشنل پارٹی کے جان محمد بلیدی اور دیگر مقررین نےخطاب کیا۔

وکلاء
وکلاء پیر سے عدالتوں کا باییکاٹ شروع کریں گے

وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں کے مطابق ’بلیگ فلیگ ویک، میں کل سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

ارمان صابر، کراچی

ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی اتوار کو وکلاء برادری کی جانب سے عدلیہ کی بحالی کے لیے بلیک فلیگ ویک کا آغاز ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں ایک جلسہ کراچی پریس کلب میں منعقد کیا گیا جس میں وکلاء، صحافی اور سول سوسائٹی کے ارکان شریک ہیں۔

البتہ کراچی میں بلیک فلیگ ویک کا آغاز بچوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے بچوں کی نظربندی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے سے کیا جو عدلیہ کی بحالی کے لیے نعرے بلند کررہے تھے۔

جلسہ شروع ہونے سے قبل سجاگ بھاگ تحریک کی جانب سے لگ بھگ چالیس سے پچاس بچوں نے پریس کلب کے سامنے معزول چیف جسٹس اور ان کے بچوں کی نظر بندی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان بچوں میں شامل ایک بارہ سالہ بچے راحیل بھٹو نے کہا کہ وہ یہاں اس لیے آئے ہیں کہ معزول جسٹس کے بچوں کو رہا کیا جائے اور ان کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

کراچی پریس کلب میں بلیک فلیگ ویک کے آغاز پر یہ جلسہ کراچی پریس کلب میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں وکلاء سول سوسائٹی اور ٹریڈ یونین کے اراکین نے شرکت کی۔ کے یو جے کے صدر خورشید تنویر نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر ملک میں کسی بھی قسم کی آزادی کا تصور بے معنی ہے۔

رفعت اللہ اورکزئی،پشاور

پشاور میں وکلاء نے’ہفتہ سیاہ پرچم‘ کا آغاز ایک وکلاء کنونشن سے کیا جس میں صوبہ بھر سے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں منعقدہ اس کنونشن سے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز خان اور معزول ججوں جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس دوست محمد خان کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنی اپنی تقاریر میں عدلیہ کی بحالی اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر معزول ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

کنونشن کے موقع پر پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کو کالے جھنڈوں سے سجایا گیا تھا جبکہ وکلاء نے بھی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ کنونشن ہال میں بھی بڑے بڑے سیاہ بینزز اور پلے کارڈز لگائےگئے تھے جس پر ’مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرو اور انہیں گرفتار کرو‘ کے نعرے درج تھے۔ وکلاء نے اس موقع پر حکومت اور صدر پرویز مشرف کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔

وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
اسی بارے میں
معزول ججوں کے حق میں مظاہرہ
28 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد