BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 February, 2008, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمران کی قیادت میں وکلاء احتجاج

عمران خان
عمران خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عدلیہ کو بحال کرنے کے لیے مہلت دی جائے گی۔
جمعہ کو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اوراحتجاجی جلوس نکالا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وکلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس میں شرکت کی۔

پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے تحت ملک بھر کے وکلاء ہر جمعرات کو عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار احتجاج کرتے ہیں تاہم جمعرات کو لاہور میں داتا گنج بخش کے عرس کی وجہ سے عام تعطیل تھی اور لاہور کے وکلا نے جمعرات کی بجائے جمعہ کو یوم احتجاج منایا۔

وکلاء کے احتجاج کے سلسلہ میں لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ضلعی بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے ایوان عدل میں خطاب کیا اور کہا کہ وکلا تحریک کا ایک مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور تحریک کے دوسرے مرحلہ میں عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلا کو سیاسی جماعتوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے عدلیہ کی بحالی کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ کیا اور عدلیہ کو بحال نہ کیا توعوام اس کو قبول کو نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عدلیہ کو بحال کرنے کے لیے مہلت دیں گے اور اگر عدلیہ بحال نہ ہوئی تو پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ تحریک چلائی جائے گی۔ ان کے بقول عدلیہ کو بحال نہ کرنا جمہوریت اور عوام کے ساتھ غداری ہے۔

وکیلوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی ناظمین کو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ یہ ناظمین عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ صدر مشرف کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔

عمران خان اپنے خطاب کے بعد لاہور بار ایسوسی ایشن کے جلوس میں شامل ہوگئے اور بار کے عہدیداروں کے ہمراہ جلوس کی قیادت کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے ضلعی بار کے جلوس میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا بھی جلوس میں شامل ہوگئے۔

جلوس میں سول سوسائٹی کے ارکان، طلباء اور تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور خاکسار تحریک کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

وکیلوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے صدر پرویز مشرف کے پتلے کو بھی نذر آتش کیا۔

وکلاء نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عدلیہ کی بحالی کے مطالبات درج تھے جبکہ جلوس کے راستے میں عدلیہ کی بحالی کے لیے بینرز بھی لگائے گئے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے لاہور ہائی کورٹ بار کے نومنتخب سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نےسیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا عوام نے ان کو مینڈیٹ دیا ہے اس لیے وہ عدلیہ کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وکلاء رہنماؤں کے خطاب کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

وکلاء پر پولیس کی شیلنگوکلاء کا مظاہرہ
اسلام آباد میں مظاہرے پر پولیس شیلنگ
وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
کراچی میں وکلاء کی ریلی وکلاء پر تشدد
کراچی:وکلاء ریلی پر لاٹھی چارج کی تصاویر
اسی بارے میں
’لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے‘
26 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد