کراچی میں وکلاء کی بھوک ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی سنیچر کو وکلاء کی جانب سے ’بلیک فلیگ ویک‘ یا ہفتۂ سیاہ پرچم کے سلسلے میں وکلاء نے ایک گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی۔ جب کہ اتوار کو کراچی بار ایسوسی ایشن کی تحت شہر کے چار مختلف علاقوں سے کار ریلیاں بھی نکالی جائیں گی جو قائدِاعظم کے مزار پر ختم ہوں گی۔ سنیچر کو کراچی بار ایسوسی ایشن کا اجلاس بار کے صدر محمودالحسن کی صدارت میں سٹی کورٹس میں منعقد ہوا جس میں عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے سٹی کورٹس کی حدود کے اندر ہی علامتی بھوک ہڑتال کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ کراچی بار کے صدر محمودالحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتۂ سیاہ پرچم کے حوالے سے وکلاء کے احتجاج جاری ہے اور اتوار کو شہر کے مختلف علاقوں سے کار ریلیاں نکالیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ریلیاں سی ویو کلفٹن، سہراب گوٹھ، بنارس چوک اور ملیر کورٹس سے شروع ہوں گی ۔ اسی طرح سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے بتایا کہ سنیچر کو وکلاء نے قائداعظم یونیورسٹی میں ایک سیمنار منعقد کیا جہاں سیاہ پرچم بھی لہرایا گیا اور اتوار کو آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کی جانب سے باچا خان چوک پر ہفتے کے مناسبت سے منعقد ہونے والے احتجاجی جلسے میں وکلاء بھی شرکت کریں گے اور سیاہ پرچم لہرایا جائے گا۔ پاکستان بھر کی وکلاء تنظیمیں تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کی بحالی اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نو مارچ سے سولہ مارچ تک ’ ہفتۂ سیاہ پرچم‘ منا رہی ہیں۔ | اسی بارے میں عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی24 February, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے‘26 February, 2008 | پاکستان جسٹس (ر) طارق کی نظر بندی ختم26 February, 2008 | پاکستان اعتزاز احسن کا موبائل پیغام29 February, 2008 | پاکستان عمران کی قیادت میں وکلاء احتجاج29 February, 2008 | پاکستان ہفتۂ اظہارِ یکجہتی 09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||