کرم ایجنسی میں جنگ بندی بےاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو چوتھے روز بھی جاری ہے جس میں مزید ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے لڑائی روکنے کےلئے ایک بار پھر متحارب قبائل کے مورچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگو امن جرگہ کی طرف سے جنگ بندی کے باوجود لوئر کرم کے علاقوں میں فریقین نے پیر کی رات ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے مورچوں کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ جھڑپوں میں بالش خیل کے علاقے میں ایک مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔ لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بھی لڑائی بند کرنے کےلئے قبائل کے مورچوں کو ایک بار پھر بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا تاہم اس کے باوجود رات بھر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف پارہ چنار میں تاجروں اور قبائل نے علاقے میں مسلسل لڑائیوں، سڑکوں اور بجلی کے بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں مقامی تاجروں اور قبائل کا ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں علاقے میں حالیہ لڑائیوں، شاہراہوں اور بجلی کے مسلسل بندش کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ انجمن تحفظ دوکانداران پارہ چنار کے کنوئنر محبوب علی پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اجتماع میں قبائل نے اعلان کیا کہ علاقےمیں بجلی کی بحالی تک کوئی صارف بل ادا نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے کرم ایجنسی میں مسلسل جھڑپیں ہورہی ہیں لیکن حکومت اس مسئلے کو پرامن طورپر حل کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ محبوب علی پراچہ کے مطابق اجتماع میں قبائل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی ہے کہ علاقے میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا فوری طورپر نوٹس لیا جائے اور علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین مرتبہ فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے علاقے کا سارا نظام درھم برھم ہوچکا ہے۔ علاقے میں تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں گزشتہ ایک سال سے بند پڑی ہیں جبکہ اکثر علاقوں میں بجلی کی ترسیل بھی معطل ہے۔ ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں میں اشیاء خوردونوش کی کمی کی وجہ سے مہنگائی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ | اسی بارے میں کرّم:گرفتاریاں اور عارضی جنگ بندی06 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی کے مہاجر، افغانستان میں پناہ 09 January, 2008 | پاکستان کُرم: سرکاری املاک پرمیزائیل 30 December, 2007 | پاکستان کرم:لڑائی جاری، امن مذاکرات شروع27 December, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی، سڑکیں ابھی تک بند25 November, 2007 | پاکستان ’ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں‘19 November, 2007 | پاکستان فرقہ وارانہ تشدد میں اڑتیس ہلاک17 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||