BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 09:05 GMT 14:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی کے مہاجر، افغانستان میں پناہ

 فائل فوٹو
کرم ایجنسی میں تقریبا تین ماہ پہلے فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے
قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے فرقہ ورانہ فسادات کے سبب افغانستان ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑائی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑا ہے اور سنی اور شیعہ مسلک کے ماننے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد کی بحالی اور مکمل امن کے قیام تک وہ اپنے وطن واپس نہیں لوٹیں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے متصل مشرقی افغانستان کے صوبہ خوست کے علی شیر ولسوالی میں پناہ گزین کرم ایجنسی کے مظفر کوٹ کے ایک رہائشی رفیق خان نے بی بی سی اردوڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ انہوں نے فریقین کے درمیان استعمال ہونے والی بھاری ہتھیاروں کی خوف سے اپنے بال بچوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

انکے بقول ’ہمارے خاندان کے اٹھارہ افراد جن میں زیادہ ترخواتین اور بچے شامل ہیں اپنے علاقے سے ایک گاڑی میں سوار ہوئے اور بغیر کسی مشکل کے افغانستان کے صوبہ خوست پہنچ گئے جہاں پر ہم نے اپنے ایک افغان دوست کے یہاں پناہ لی۔‘

ایک اور شخص رحیم خان کا کہنا تھا کہ ’میرے خاندان کے آٹھ افراد ایک افغانی کے یہاں مقیم ہیں جنکے ساتھ میری دوستی اس وقت ہوئی تھی جب وہ افغان جنگ سے بھاگ کر ہمارے علاقے میں آباد ہوئے تھے۔‘ ان کے بقول زیادہ تر پاکستانی افغانیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ میز بانوں کے گھروں میں گنجائش کم ہے اور تقریباً پندرہ سے زیادہ خواتین اور بچے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

رحیم خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم بے سروسامانی کے عالم میں گھر سے نکلے تھے، ہمارے پاس نہ کمبل ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ بچے سخت سردی میں ٹھٹر رہے ہیں اور بعض تو بیمار بھی ہوگئے ہیں۔افغان حکومت اور بعض دیگر اداروں نے مدد تو کی مگر کب تک ہم دوسرے کی مدد پر ان کے یہاں رہیں گے۔‘

کرم ایجنسی کے علاقے بگن کے رہائشی جاوید پاکستانی حکومت کے اس بیان پر سخت سیخ پاہ نظر آئے جس میں کہا گیا تھا کہ کرم ایجنسی سے ایک شخص نے بھی افغانستان نقل مکانی نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان جھوٹ بول رہا ہے۔ میں آیا ہوں اور میرے ساتھ کئی خاندان بھی نقل مکانی کر کے مختلف علاقوں میں رہائش پزیر ہیں جسکی تعداد تقریباً پانچ سو بنتی ہے۔‘

دوسری طرف افغان حکومت کے اعلی سطح کے ایک وفد نے افغان وزیر برائے مہاجرین شیر محمد اعتباری کی سربراہی میں پیر کی صبح ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں پر پاکستانی آباد ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے خوست کے علی شیر ولسوالی میں تقریباً پانچ سو خاندانوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ درجنوں خیمے تقسیم کیے۔افغان وزیر شیر محمد اعتباری نے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت خوست اور پکتیا میں ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی خاندان رہائش پزیر ہیں۔

شیر اعتباری نے بتایا: ’پکتیا اور خوست میں ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی خاندانوں نے عام افغانوں کے گھروں میں پناہ لی ہے ۔ان لوگوں کے لیے کوئی الگ کیمپ قائم نہیں کیا جائے گا کیونکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ان پاکستانیوں کی مہمان نوازی کرنا چاہتے ہیں۔ میز بانوں کے ہاں جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہم نے انہیں درجنوں خیمےدیے ہیں تاکہ مردوں کو ان میں ٹھہرایا جاسکے۔‘

’ ہم مر جائیں گے‘
پارا چنار میں کرفیو سے راشن و ادویات کی کمی
کرم میں فرقہ واریت
پارہ چنار کے علاقے میں تصادم کیسے شروع ہوا؟
فسادات جاری ہیں
کرم ایجنسی فسادات میں درجنوں ہلاک
کرم ایجنسی
کرم ایجنسی کے فسادات کی تصاویر
پارہ چنارپارہ چنار کی تباہی
’ایسا لگتا ہے کہ یہاں بڑی جنگ لڑی گئی ہے‘
کرم ایجنسیکرم ایجنسی میں امن
شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ
 پاڑہ چنار (فائل فوٹو)’ہر طرف لاشیں ہیں‘
پارہ چنار میں لڑائی کے عینی شاہد نے کیا دیکھا
اسی بارے میں
کرم: گولہ باری میں چار ہلاک
04 January, 2008 | پاکستان
سوات بمباری، سات شہری ہلاک
05 January, 2008 | پاکستان
سوات میں فوج کی پیش قدمی
06 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد