BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 January, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات بمباری، سات شہری ہلاک

فائل فوٹو
 سکیورٹی فورسز احتیاط سے کام لیتے ہوئے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنائیں جہاں پر طالبان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ہو
مقامی افراد کا مطالبہ
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں چار بچوں اور خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

تحصیل کبل کی گلوچ خیر آباد یونین کونسل کے ناظم جعفر خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے طالبان کے مشکوک ٹھکانوں پر مسلسل گولہ باری کی۔

ان کے مطابق گولہ باری کا نشانہ بننے والے ایک گھر میں موجود افراد باہر نکل کر کسی محفوظ جگہ پر پناہ لینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ گولے کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کالہ کلئی میں بھی گولے لگنے سے تین گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور ایک خاتون کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

جعفر خان کے بقول ہلاک ہونے والے تمام افراد کو سنیچر کی دوپہر کو گلوچ خیر آباد کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس قبل بھی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں چار بےگناہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

یونین کونسل کے ناظم کے مطابق اس واقعے کے بعد عام لوگوں میں شدید خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں طالبان نہیں ہیں لیکن پھر بھی عام شہریوں کونشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ سکیورٹی فورسز احتیاط سے کام لیتے ہوئے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنائیں جہاں پر طالبان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ہو۔

فائل فوٹو
سکیورٹی فورسز نےطالبان کے مشکوک ٹھکانوں پر مسلسل گولہ باری کی

دوسری جانب سوات میں فوجی ترجمان کرنل ندیم نے عام شہریوں کی ہلاکت کے تازہ واقعےسے لاعلمی ظاہر کی ہے تاہم ان کے مطابق گزشتہ رات گٹ پیوچار اور آس پاس کے علاقوں میں طالبان کی نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے ان پر بھاری توپوں سے حملہ کیا جس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں طالبان اور فوج کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوئی تھی تاہم بعد میں طالبان اپنےمورچے خالی کرنے کے بعد نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ حکومت نے طالبان کے زیر کنٹرول علاقے واپس حاصل کرکے وہاں پر کرفیو نافذ کیا جو تاحال برقرار ہے۔

فوج نے گزشتہ کچھ عرصے سے سرچ آپریشن کے دوران مقامی طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ کا ساتھی ہونے کے شبہہ میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں زیادہ تر بے گناہ افراد شامل ہیں۔

سوات میں تشدد
سوات شدت پسندوں کا فرنٹ لائن کیسے بنا؟
’سکیورٹی بحال‘
حکام کے مطابق سوات کا کنٹرول سنبھال لیا گیا
سواتسوات آپریشن
طالبان فرار لیکن لوگوں میں عدم تحفظ برقرار
 سوات جنگ بندیسوات فائر بندی
جھڑپیں تھم گئیں، نقل مکانی جاری ہے
اسی بارے میں
سوات: خودکش حملہ نو ہلاک
09 December, 2007 | پاکستان
سوات میں دوبارہ رات کا کرفیو
23 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد