انتخاب امیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | فوج نے مولانا فضل اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے |
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کی تحصیل کبل میں مقامی انتظامیہ نے منگل کے روز حکومت کو مطلوب مذہبی رنما مولانا فضل اللہ سے وابستہ ایک شخص محمود خان کا حجرہ مسمار کردیا جبکہ ضلعی صدر مقام مینگورہ کے قریب واقع چار باغ کے علاقے کوٹ میں پولیس نے سڑک کے کنارے پڑے ایک گھریلو ساختہ بم کی نشاندہی ہونے پر اسے ناکارہ بنا دیا۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سوات کے لیے ترجمان کرنل ندیم نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ کبل تحصیل میں کانجو چوک سے لے کر کبل تک پیر کی شام چھ بجے لگنے والے کرفیو کے اوقات میں منگل کی صبح سات بجے وقفہ کرنے کی بجائے اُس میں توسیع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو کے دوران فوج نے کانجو چوک سے لے کر کبل تک کے علاقے میں ’سرج آپریشن‘ کیا جبکہ مقامی انتظامیہ نے مولانا فضل اللہ سے منسوب ایک ’دہشت گرد‘ محمود خان کے حجرے کو مسمار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہ حجرے سے متصل محمود خان کے گھر کو ’انسانی ہمدردی‘ کے جذبے کے تحت چھوڑ دیا گیا کیونکہ اُس میں محمود خان کا کنبہ تاحال مقیم ہے۔ فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سوات میں حالات کے بہتر ہونے کے واضح نشان ہیں۔ ’پیر کی شام مینگورہ سے ایک سو ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقے کالام تک کے علاقے میں حکومت کی عملداری بحال کردی گئی ہے، کالام کے پولیس سٹیشن کا چارج سنبھالنے کے بعد وہاں پولیس نے فرائض سرانجام دینے شروع کردیے ہیں۔‘ جب ان کی توجہ اتوار کی شام مینگورہ میں ہونے والے خود کش بم حملے میں گیارہ ہلاکتوں کی جانب مبذول کراتے ہوئے حکومت کے سوات میں امن بحال کرنے کے حوالے سے کیے گئے دعوے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ’واضح نشان ہیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں ، کبھی کبھار وہ (دہشت گرد) بیچ میں گھس آتے ہیں، ویسے بھی لڑائی سوات میں ہوتی ہے اور خودکش حملہ اسلام آباد میں کر دیا جاتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حالات بہتر ہوئے ہیں: ’لیکن پھر بھی مکمل طور پر صورتِحال ٹھیک ہونے میں کچھ مزید وقت لگے گا۔‘ دوسری جانب مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے سوات کے ایک مقامی اخبار روزنامہ چاند کے ایڈیٹر کو ٹیلیفون پر دیے گئے ایک بیان میں حکومت کو دھمکی دی ہے کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے سوات میں فوج کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ سراج الدین نے اتوار کی شام مینگورہ میں فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے حکومت کو وزیرستان اور سوات میں فوجی آپریشن بند کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی تھی جو عید الاضحیٰ کے چوتھے روز پوری ہونی تھی لیکن فوج نے سوات میں گُلی باغ کے علاقے میں ایک مدرسے کو گرادیا۔ سراج الدین نے کہا کہ اس کے جواب میں اتوار کے روز فوج پر سوات میں دو مقامات پر حملے کیے گئے لیکن ان دونوں میں فوج کا نقصان نہ ہوا جس کے بعد مینگورہ میں فوجی قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا۔ |