BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور:’مزار پر حملہ، دس ہلاک‘

پولیس اہلکار(فائل فوٹو)
سرکاری موقف معلوم کرنے کے لیے پشاور پولیس کے تمام اعلیٰ اہلکاروں سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔
پشاور اور قبائلی علاقہ باڑہ کے سرحد پر ایک مذہبی تنظیم کے ایک مزار پر حملے کی مبینہ کوشش کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دس افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

تھانہ بڈھ بیر کے اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب لشکر اسلام نامی ایک شدت پسند تنظیم کے سینکڑوں حامیوں نے پشاور کے علاقے شیخان گاؤں میں واقع ایک مزار پر حملہ کیا۔

واقعہ کی اطلاعات ملتے ہی پشاور پولیس کے اعلیٰ اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ تاہم پولیس کی موجودگی کے باوجود بھی مسلح افراد کے مابین فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا مؤقف
 شدت پسند تنظیم کی طرف سے پہلے بھی مزار کے رکھوالوں کو دھمکیاں ملی چکی تھیں جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ مزار پر مبینہ غیر قانونی دھندے بند کیے جائیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے لشکر اسلام کے الزامات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد گاؤں کے لوگ نکل آئے اور جوابی کارروائی کی جس کے بعد دونوں طرف کے مسلح افراد کے مابین کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جبکہ عینی شاہدین نے ہلاک شدگان کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں آٹھ افراد کا تعلق شیخان گاؤں سے جبکہ دو لشکر اسلام کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لشکر اسلام کے حامیوں نے مزار کو آگ لگانے کی کوشش کی اور کچھ دوکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

لشکر اسلام کا دعویٰ ہے کہ مزار اورگاؤں میں مبینہ طورپر منشیات کے اڈے قائم تھے جہاں غیر قانونی کاروبار کے علاوہ بعض جرائم پیشہ افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ تاہم گاؤں کے لوگوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ شدت پسند تنظیم کی طرف سے پہلے بھی مزار کے رکھوالوں کو دھمکیاں مل چکی تھیں جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ مزار پر مبینہ غیر قانونی دھندے بند کیے جائیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے لشکر اسلام کے الزامات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سرکاری موقف معلوم کرنے کے لیے پشاور پولیس کے تمام اعلیٰ اہلکاروں سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ شیخان گاؤں ضلع پشاور کے حدود میں آتا ہے اور اس کی سرحد قبائلی علاقے باڑہ سے ملتی ہے۔

اسی بارے میں
پشاور پولیس چیک پوسٹ پرحملہ
24 February, 2008 | پاکستان
پشاور میں مقامی صحافی قتل
30 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد