پشاور پولیس چیک پوسٹ پرحملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے درہ آدم خیل کے قریب پولیس اور ایف سی کی ایک چوکی پر نامعلوم راکٹ حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ پشاور کے نواح میں واقع تھانہ متنی کے حکام کے مطابق یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے متّصل پشاور کوہاٹ سڑک پر اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں قادر آباد میں قائم ایک عارضی پولیس چوکی پر راکٹ اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس سے وہاں موجود ایف سی کے دو اور پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چوکی میں موجود اہلکاروں نے مسلح افراد پر جوابی فائرنگ بھی کی جس میں ایک حملہ آوار کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آواز سنتے ہی وہاں قریب واقع گھروں سے لوگ باہر نکل آئے اور حملہ آواروں پر فائرنگ کردی جس سے مسلح افراد بھاگ گئے۔ پولیس کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آواروں کے مابین کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بعد کسی پولیس چوکی پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل بھی متنی ہی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی اپک چیک پوسٹ کو راکٹ حملے میں نشانہ بنایا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔ تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ |
اسی بارے میں ’درے سے شدت پسندوں کا صفایا‘29 January, 2008 | پاکستان درہ: ہتھیار برآمد، ٹنل کھول دی گئی01 February, 2008 | پاکستان چیک پوسٹ حملہ، صوبیدار ہلاک15 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||