جماعت اسلامی کے رکن سوات میں قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے محکمہ تعلیم کے ایک سابق اعلٰی افسر اور جماعت اسلامی کے فعال رکن کو قتل کردیا ہے۔ سوات کے ضلعی رابطہ افسر شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور جماعت اسلامی کے فعال رکن محمد ضمیر تحصیل کبل میں واقع اپنے گھر واپس جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نےان پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے سیدو شریف ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہوسکتی ہے کیونکہ محمد ضمیر کی کسی کے ساتھ بھی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ شورش زدہ سوات میں گزشتہ سال اکتوبر میں طالبان کے خلاف شروع ہونے والی فوجی آپریشن کے دوران علاقے کے کئی سرکردہ قبائلی اور سیاسی شخصیات کو’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم صوبائی حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد اس قسم کے واقعات میں اگرچہ کافی کمی واقع ہوئی ہے تاہم یہ سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں ہوسکا ہے۔ | اسی بارے میں چار برس میں تشدد کے تین سوواقعات18 June, 2008 | پاکستان سرحد حکومت سے روابط منقطع:طالبان 17 June, 2008 | پاکستان سوات: ’معاہدے کی اہمیت نہیں‘22 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان حکومت سے بات چیت معطل: طالبان28 April, 2008 | پاکستان سوات، سکیورٹی میں اضافہ 11 April, 2008 | پاکستان سرحد: حکومتی جرگہ کی تشکیل08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||