BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 May, 2008, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: ’معاہدے کی اہمیت نہیں‘

سوات امن معاہدہ
حکومت اور طالبان دونوں کو اب سوات امن معاہدے کی صحیح معنوں میں پاسداری کرنی چاہیے: مولوی عمر
تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ مرکز میں حکومت کے ساتھ جاری امن بات چیت کی ناکامی کی صورت میں صوبہ سرحد میں حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

جمعرات کو تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ قبائلی علاقوں کی سطح پر مرکزی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہورہے ہیں اور دونوں جانب کافی حد تک پیش رفت بھی ہوئی ہے ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوبی وزیرستان سے فوج کی واپسی اور قیدیوں کے تبادلے سے دونوں طرف اعتماد کی فضا قائم ہوئی ہے۔ تاہم حکومت وزیرستان سے فوج کی انخلاء کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔

ترجمان نے گزشتہ روز سرحد حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے علاقے میں امن کی فضا قائم ہوگی جبکہ اس کے مثبت اثرات دوسرے علاقوں پر بھی پڑیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اور طالبان دونوں کو اب سوات امن معاہدے کی صحیح معنوں میں پاسداری کرنی چاہیے تاکہ امن کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

ایک سوا ل کے جواب میں مولوی عمر نے کہا ’خداناخواستہ اگر ان کی حکومت سے قبائلی علاقوں کے سطح پر جاری مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر سوات میں ہونے والے امن معاہدے کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ کیونکہ سوات کے طالبان ان کی تنظیم کا حصہ ہیں اور جب حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہوگا تو پھر وہ وزیرستان سے لیکر سوات تک ہی ہوگا ۔‘

یاد رہے کہ سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنماوں میں ہوتا ہے۔

 خداناخواستہ اگر ان کی حکومت سے قبائلی علاقوں کے سطح پر جاری مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر سوات میں ہونے والے امن معاہدے کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ کیونکہ سوات کے طالبان ان کی تنظیم کا حصہ ہیں اور جب حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہوگا تو پھر وہ وزیرستان سے لیکر سوات تک ہی ہوگا
مولوی عمر

ترجمان نے کہا کہ وزیرستان میں آجکل میں مزید قیدیوں کی رہائی متوقع ہے جس کے بعد قیدیوں کی رہائی کا مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت نے ملک میں تشدد کے خاتمے اور امن وامان کے قیام کےلیے مقامی طالبان سے امن مزاکرات شروع کئے تھے۔

بعد میں طالبان نےیہ کہہ کر بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا کہ حکومت نے ان کے بعض اہم مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ تعطل رہنے کے بعد یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے جو تاحال جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے اس بات چیت کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے ۔

اسی بارے میں
پشاور صرف چالیس کلومیٹر
26 January, 2008 | پاکستان
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد