BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 January, 2008, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں پولیو مہم نہیں چلے گی

طالبان سوات میں
’حکومت پولیو ویکسین کے خلاف ہونے والے’پروپیگنڈوں‘ سے بہتر طور پر نمٹ نہیں سکی ہے‘
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بائیس جنوری سے پولیو کیخلاف شروع کی جانے والی مہم میں ضلع سوات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بات جمعرات کو پشاور پریس کلب میں پولیو مہم کے آغاز کے بارے میں منعقدہ پریس بریفنگ کے بعد صوبہ سرحد کے محکمۂ صحت کے اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مصطفٰی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ بائیس جنوری سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شروع کی جانے والی پولیو مہم میں سوات کو مقامی انتظامیہ کے کہنے پر شامل نہیں کیا گیا۔

انکے مطابق ’سوات میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے ہمیں یہ رپورٹ دی ہے کہ وہاں پر پولیو کی مہم چلانا ممکن نہیں ہے۔‘

محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ضلع سوات کے چار لاکھ سے زائد بچے پولیو ویکسین کے قطرے پینے سے محروم ہوجائیں گے۔

صوبائی محکمۂ صحت نے سوات میں پولیو مہم شروع نہ کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب بدھ کو اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن میجر جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک پریس بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ سوات میں حکومتی عملداری مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔

پچھلے سال محکمۂ صحت کی موبائل ٹیموں نے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں مولانا فضل اللہ کی سخت مخالفت کے باوجودگھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے تھے۔ تاہم سینکڑوں لوگوں نے بچوں کو پولیو ویکسین دینے سے انکار کردیا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے نگراں وزیر صحت کمال شاہ کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اس سال پولیو مہم کی کامیابی کی راہ میں سب بڑا چیلنج ہے۔

انکے مطابق’سوات، باجوڑ، مہمند، جنوبی اور شمالی وزیرستان جو طالبان کے زیر اثر ہیں پولیو ویکسین کے خلاف سخت پروپیگنڈہ ہوا ہے اور یہاں پر اس سال پولیو مہم کے سلسلے میں ہمیں سخت مشکلات درپیش ہونگی۔‘

صوبائی وزیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت پولیو ویکسین کے خلاف ہونے والے’پروپیگنڈوں‘ سے بہتر طور پر نمٹ نہیں سکی ہے لہٰذا میڈیا اس سلسلے میں حکومت کی بھر پور معاونت کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں جن لوگوں نے آس پاس کے علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے اس سے پولیو کا وائرس مقامی آبادی میں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

 گزشتہ سال بھی حکام نے کہا تھا کہ صوبہ سرحد اور بعض قبائلی علاقوں میں مقامی دینی علماء کی مخالفانہ تقاریر کی وجہ سے سینکڑوں والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیاتھا۔

صوبہ سرحد کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ساجد شاہین نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بائیس جنوری سے پچیس جنوری تک جاری رہنے والی پولیو مہم کے دوران صوبہ بھر میں پچاس لاکھ چونتیس ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے لیے پندرہ ہزار ایک سو چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی حکام نے کہا تھا کہ صوبہ سرحد اور بعض قبائلی علاقوں میں مقامی دینی علماء کی مخالفانہ تقاریر کی وجہ سے سینکڑوں والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیاتھا۔

جبکہ پچھلے سال ہی باجوڑ میں ڈاکٹر عبدالغنی اور ایک اہلکار کو اس وقت ہلاک کردیا گیا جب وہ پولیو مہم کے سلسلے میں ایک جرگے سے گفت و شنید کرنے کے بعد صدر مقام خار واپس آرہے تھے۔

محکمہ صحت کے مطابق سنہ دوہزار سات کے دوران پاکستان میں پولیو وائرس کا شکار ہونے والے اکتیس بچوں میں سے گیارہ صوبہ سرحد، بارہ سندھ، سات بلوچستان اور ایک کا صوبہ پنجاب سے تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار سات میں نو سو بانوے بچے پولیو کے وائرس کا شکار ہوئے تھے جبکہ انڈیا، پاکستان، افغانستان اور نائجریا کے علاوہ باقی تمام ممالک سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد