BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں پولیو مہم کامیاب

باقی ملک میں پولیو مہم میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی
صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہےکہ ضلع سوات میں مقامی علماء کی جانب سےپولیو ویکسین کی مخالفت میں قدرے کمی آئی ہے جسکی وجہ سے رواں ہفتے کے دوران شروع کی گی پولیو کے خلاف مہم کےحوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ضلع سوات میں اس سال کے اوائل میں پولیو ویکسین پلانے کی شرح میں کمی آنے کے بعد انیس جون کو دوبارہ پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کردیا جس میں تقریباً تین لاکھ چون ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس مہم کے دوران اٹھانوے فیصد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جو ایک حوصلہ افزا امر ہے جبکہ ان کے بقول پچھلے سال یہ شرح چھیانوے فیصد تک تھی۔

اہلکار کے مطابق مہم کے دوران سوات کے کئی علاقوں مثلاً چار باغ، قمبر، برہ بانڈہ اور کوزہ بانڈہ میں بعض افراد نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔ ان کے بقول ’جن افراد نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ہے اس کی وجہ پولیو کے ویکسین سے متعلق بعض دینی علماء کی مخالفانہ تقاریر اور فتوے ہیں۔،

محکمہ صحت کےاہلکاروں کا کہنا ہے کہ ضلع سوات میں غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد سے ان کے دائرہ اثر میں آنے والے علاقوں میں پولیو کی گزشتہ مہم کے مقابلے میں اس مرتبہ لوگوں نے بہت زیادہ مخالفت نہیں دکھائی۔ مولانا فضل اللہ کے ساتھ معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ وہ پولیو ویکسین کے خلاف تقاریر نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے مالا کنڈ ڈویژن ، جنوبی اضلاع اور بعض قبائلی علاقوں میں پولیو کی گزشتہ مہم کے دوران کئی ہزار بچے پولیو ویکسین سے محروم ہوئےتھے جس کی ایک وجہ مقامی علماء کی مخالفت تھی کیونکہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو مسلمانوں کے خلاف مغرب کی ایک سازش قرار دے رہے تھے۔

تاہم صوبہ سرحد کی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیو کے وائرس کے خاتمے کی مہم میں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں دوردراز علاقوں تک عدم رسائی اورامن و امان کی ابتر صورتحال بھی شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں ہر دس میں سے دو بچے ایسے ہیں جو گزشتہ مہم کے دوران مقامی علماء کے کہنے پر پولیو ویکسین سے محروم ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد