قیدی نہیں’معصوم‘ رہا کیے ہیں: رحمان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں مبینہ انتہاپسندوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں جبکہ وہاں پر حکومتی عملداری کی مکمل بحالی تک فوج موجود رہے گی۔ منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں جنوبی وزیرستان سےتعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ملک میں قیام امن کے لیے جاری مذاکرات مبینہ انتہاپسندوں کے ساتھ نہیں بلکہ وہاں کے اقوام کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت تک فوج موجود رہے گی جب تک وہاں پر حکومتی عملداری بحال نہیں ہوجاتی۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ قبائلی مشران کے مطالبے پر حکومت چند دنوں کے دوران فوجی آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے’معصوم‘ افراد کی رہائی کے علاوہ جنوبی وزیرستان کی بند ہونے والی تمام سڑکیں کھول دے گی تاکہ بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آپریشن کے دوران لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے انہیں معاوضے ادا کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں قبائلی بڑوں اور حکومتی اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جائے گی تاکہ مستحق افراد کے لیے معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔
پریس بریفنگ میں موجود صوبہ سرحد کےگورنر اویس احمد غنی نے ایک سوال کے جواب میں اس بات سے انکار کیا کہ گزشتہ روز طالبان اور حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں کسی مبینہ دہشت گرد کو بھی رہا کیا گیا ہے بلکہ بقول انکے اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کیا گیا تھا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت سے خوفزدہ بعض ہمسایہ ممالک قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔تاہم انہوں نے کسی بھی ہمسایہ ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔ طالبان کی جانب سے سرحد پار دراندازی کو جاری رکھنے کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے بارے میں مشیر داخلہ نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک طویل سرحد موجود جس پر اگر پوری پاکستانی فوج بھی تعینات کی جائے تو بھی سرحد پار آمدرورفت روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس سے قبل تمام قبائلی علاقوں سے آئے ہوئےمشران کے ایک دوسرے جرگے سے خطاب کے دوران رحمان ملک کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں سے سرحد پار دہشت گردی نہیں ہونے چاہیئے کیونکہ بقول انکے کسی دوسرے ملک میں کارروائیاں کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ رحمان ملک سے پوچھا گیا کہ صوبائی اور مرکزی حکومت کیسے بیک وقت تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں مصروف ہے تو انکا کہنا تھا کہ سوات میں طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بارے میں مرکزی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور انہوں نے اس اعلان کے بعد صوبائی حکومت سے بھی رابطہ کرلیا تھا۔ پریس بریفنگ کے دوران مشیر داخلہ اور گورنر سرحد بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ امن مذاکرات طالبان کے ساتھ نہیں بلکہ قبائل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔تاہم یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ رحمان ملک نے آپریشن کے دوران متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی، گرفتار شدگان کی رہائی اور بند ہونے والی سڑکوں کو کھولنے کا جو اعلان کیا ہے یہ وہ مطالبات ہیں جو تحریک طالبان کرتی آ رہی ہے۔ | اسی بارے میں کوہاٹ: فوجی گاڑی پر بم حملہ،6 زخمی20 May, 2008 | پاکستان باجوڑ میں بم دھماکہ تین ہلاک19 May, 2008 | پاکستان سفیر کی رہائی اور حکومتی دعوی18 May, 2008 | پاکستان مردان خود کش حملہ، تیرہ ہلاک، متعدد زخمی18 May, 2008 | پاکستان سفارتکار طارق عزیز الدین کی رہائی17 May, 2008 | پاکستان باجوڑ حملہ امریکہ نے کیا:پاکستان16 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان ملک اور صحافیوں میں آنکھ مچولی06 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||