BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 April, 2008, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت سے بات چیت معطل: طالبان

طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت نے تین مطالبات تسلیم کر لیے ہیں
پاکستان میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم طالبان کی تنظیم نے کہا ہے کہ حکومت سے ان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان کے بعض اہم مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے ’دونوں طرف‘ ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے اور مذاکرات کا عمل رک گیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا موقف معلوم کرنے کےلیے رابطہ کیا گیا تو وہ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔

مذاکرات کی تعطلی کا اعلان پیر کو بیت اللہ محسود کے ترجمان مولوی عمرنے بی بی سی کو کیے گئے ٹیلی فون پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی طرف سے جو اراکین جرگہ میں شامل تھے وہ حکومت کی رویے سے مایوس ہوکر واپس آگئے ہیں۔

ان کے مطابق ’ہمیں نئی حکومت سے بہت توقعات تھیں لیکن اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے خیر سگالی کے جو بیانات جاری کیے جارہے تھے وہ صرف لوگوں کو خوش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھے۔‘

انہوں نے الزام لگاگیا کہ حکومت مذاکرات میں مخلص اور سنجیدہ نہیں ہے۔ ترجمان نے دھمکی دی کہ اس کے بعد اگر عسکریت پسندوں کی طرف سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

ان سے جب مذاکرات کی ناکامی کی وجہ پوچھی گئی تو ترجمان نے کہا کہ ’حکومت میں شامل بعض ادارے نہیں چاہتے کہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کامیاب ہوں۔‘

طالبان کے مطالبات کیا ہیں
حکومت کو چار مطالبات پیش کئے تھے جن میں جنوبی وزیرستان، سوات اور درہ آدم خیل سے فوج کا فوری انخلاء، قیدیوں کا تبادلہ، حکومتی کاورائیوں میں وزیرستان سے سوات تک متاثر ہونے والے خاندانوں کو معاوضہ دینا اور تحریک طالبان کے کارکنوں کو وزیرستان سے کراچی تک آزادانہ سفر کی اجازت ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی ادراوں کے علاوہ کچھ بیرونی ممالک بھی سرگرم عمل ہیں اور وہ بھی نہیں چاہتے کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان اور خاموشی ہوں۔

مولوی عمر نے کہا کہ ’مذاکرات میں بنیادی بات یہ تھی کہ امن معاہدے سے قبل حکومت وزیرستان، سوات اور درہ آدم خیل سے فوج واپس بلائے گی لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا اور ان سے کیا گیا وعدے پر عمل درامد نہیں کیا جاسکا۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہماری طرف سے فوج کا قبائلی اور دیگر علاقوں سے انخلاء ہی سب سے بڑا مطالبہ تھا لیکن حکومت نے اپنا وعدہ پوار نہیں کیا لہذا ہم نے بھی مذاکرات کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں مولوی عمر نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو چار مطالبات پیش کئے تھے جن میں جنوبی وزیرستان، سوات اور درہ آدم خیل سے فوج کا فوری انخلاء، قیدیوں کا تبادلہ، حکومتی کاررورائیوں میں وزیرستان سے سوات تک متاثر ہونے والے خاندانوں کو معاوضہ دینا اور تحریک طالبان کے کارکنوں کو وزیرستان سے کراچی تک آزادانہ سفر کی اجازت شامل ہوگی ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے تین مطالبات تسلیم کیے تاہم وزیرستان اور دیگر علاقوں سے فوج کی واپسی اور چیک پوسٹیں ختم کرنے سے انکار کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوج کی واپسی کا مطالبہ تسلیم کیا تو بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس وقت تقریباً ایک سو فوجی اور سکیورٹی اہلکار طالبان کے زیرحراست ہیں جبکہ دو سو کے قریب طالبان جنگجو مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والےانتخابات کے نتیجے میں قائم حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں امن وامان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کا عندیہ دیا تھا اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات شروع ہونے کے بعد قبائلی اور دیگر علاقوں میں مقامی طالبان کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد