سوات:’امن آ گیا پر سیاح چلے گئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں امن معاہدے کے بعد امن و امان کی صورتحال تو بظاہر بہتر ہوئی ہے لیکن علاقے کے باشندوں کے معاشی حالات میں بہتری آنے کا نام نہیں لے رہی۔ امن معاہدے کے بعد حکومت کی عملداری بھی بحال ہوتی دکھائی دیتی ہے لیکن دوسری طرف وادی کے اہم مراکز میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے سبب مقامی لوگوں کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ سوات کی تقریباً پچاس فیصد سے زائد آبادی کا انحصار سیاحت پر ہے۔ قدرت کی حسین اور سرسبز وادیوں سے مالامال اس علاقے کی سیر کے لیے ہر سال دنیا بھر اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن گزشتہ ایک سال سے سوات میں کشیدگی کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سوات میں وادی کالام کو سب سے اہم سیاحتی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔دریائے اوشو اور دریائے اتروڑ کے سنگم پر واقع اس چھوٹی سی وادی کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور اس وادی کو سیاحوں کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے۔ کالام میں رہنے والے تمام لوگوں کا روزگار سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے۔ کالام میں تقریباً تین سو کے قریب چھوٹے اور بڑے ہوٹل قائم ہیں جن میں کاروبار نہ ہونے کے باعث اسّی فیصد ہوٹل گزشتہ ایک سال سے بند پڑے ہیں۔
اس کے علاوہ کالام کے بازار میں بھی لگ بھگ پانچ سو دکانیں قائم ہیں جن میں سے چالیس، پچاس دکانوں کے علاوہ باقی ماندہ پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ کالام میں ایک ٹورسٹ گائیڈ شاہ روم کا کہنا ہے کہ جب سے سوات میں کشیدگی کا آغاز ہوا ہے، علاقے میں تمام کاروبار ٹھپ ہے، ہوٹل اور دوکانیں بند ہیں اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالام میں تمام لوگوں کا روزگار سیاحت سے باندھا ہوا ہے۔ ’سیاح نہیں آ رہے تو کاروبار بھی نہیں اور لوگوں کو شدید مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے‘۔ شاہ روم کے بقول ’اب تو زیادہ تر تجارت پیشہ لوگ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کاروبار ختم کر کے کسی اور علاقے میں سرمایہ کاری کریں‘۔ کالام میں سیاحوں کا سیزن مئی سے شروع ہوتا ہے اور اگست کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ ان چار ماہ کے دوران ہوٹلوں اور بازاروں میں سیاحوں کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ کالام میں ہوٹل مالکان ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری رحمت دین صدیقی نے بتایا کہ’گزشتہ سال تو پھر بھی تھوڑے بہت سیاح آئے تھے لیکن رواں سال تو سیزن شروع ہوئے مہینہ پورے ہونے کو ہے لیکن سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اب تو بعض ہوٹل مالکان نے اپنے ہوٹل اور جائیدایں فروخت کرنا بھی شروع کر دی ہیں اور چند بڑے ہوٹلوں پر ’برائے فروخت‘ کے اشتہارات بھی لگ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیزن کی خرابی کی وجہ سے ہوٹل مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان بھی ایک کشمکش چل رہی ہے کیونکہ مالکان کرایہ مانگ رہے ہیں جبکہ کرایہ دار کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے کرایہ دینے سے قاصر ہیں۔ کالام میں تین سو کے قریب جیپ اور ٹیکسی گاڑیاں بھی چلتی ہیں لیکن سیزن کی خرابی کے باعث یہ گاڑیاں بند پڑی ہیں اور بازار میں سڑک کے کنارے کھڑی نظر آتی ہیں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور جاوید جان نے بتایا کہ سیزن کے دوران وہ روزانہ پندرہ سو سے دو ہزار روپے کماتے تھے لیکن اب تو حال یہ ہے کہ بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ مزید اس طرح جاری رہا تو بہت جلد ٹیکسی ڈرائیور گاڑیاں بیچ کر کوئی اور دھندہ شروع کر دیں گے۔ | اسی بارے میں حکومت و طالبان کا امن معاہدہ21 May, 2008 | پاکستان سوات کا حل مذاکرات ہیں: ہوتی04 March, 2008 | پاکستان معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام01 March, 2008 | پاکستان طالبان کا سیاسی جماعتوں کو پیغام24 February, 2008 | پاکستان اے این پی اور پیپلز پارٹی کے چیلنج23 February, 2008 | پاکستان سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک22 February, 2008 | پاکستان سوات آپریشن میں 41 گرفتار12 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||