حکومت سے بات چیت کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے سوات کے طالبان کو صوبہ سرحد کی حکومت سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی خصوصی طور پر اجازت دیدی ہے۔ بیت اللہ محسود کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے بعد سوات کے طالبان نے بھی صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بیت اللہ محسود نے بدھ کی رات کو انہیں خصوصی طور پر یہ اجازت دی ہے کہ وہ صوبہ سرحد کی حکومت سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ محسود کا یہ پیغام انہوں نے مولانا فضل اللہ کو پہنچا دیا ہے اور اس سلسلے میں بہت جلد صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع ہوجائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بیت اللہ محسود نے مذاکرات کی اجازت انہیں کیوں دی ہے۔مسلم خان نے مزید کہا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کی موجود گی امن معاہدے کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے گزشتہ کئی دنوں سے سوات میں پر تشدد واقعات میں طالبان کے ملوث ہونے کی براہ راست ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے محض اتنا کہا کہ’طالبان سکیورٹی فورسز کی ہر کاروائی کا جواب دیں گے۔‘ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے چار روز قبل حکومت پر اپنے انتخابی وعدوں کی خلاف ورزی کرنے اور کئی علاقوں میں آپریشن شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اس اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے سوات اور درہ آدم خیل کے طالبان نے بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیئے تھے۔ اس سے پہلے ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ضلع سوات میں نامعلوم مسلح افراد نے پیش امام سمیت دو افراد کو گولیاں مار ہلاک کردیا ہے جبکہ ایک اور واقعہ میں پولیس چوکی اور لڑکوں کے ایک کالج کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلا واقعہ منگل کی شام تحصیل کبل کے علاقے ننگوالئی میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تنظیم نوجوانان اہلسنت والجماعت سوات کے صدر اور مقامی مسجد کے پیش امام سمیع اللہ گولیاں مار قتل کردیا۔ تھانہ کبل کے ایک پولیس اہلکار کے نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کی زد میں انے سے ایک سولہ سالہ راہ گیر علی شیر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔ قتل کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔ ادھر سوات کے ایک دوسرے تحصیل مٹہ میں تشدد کے ایک اور واقعہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس چوکی اور فضل حق کالج کے ایک سمر کیمپ کو آگ لگا دی جس سے چوکی اور کالج کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ تھانہ مٹہ کے ایک اہلکار رحیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں واقعات بدھ کی صبح لال کوہ کے علاقے میں پیش آئے جس سے چوکی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے جبکہ پندرہ سے زائد کمروں پر مشتمل کالج کی بلڈنگ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اہلکار کے مطابق پولیس چوکی اور کالج کی عمارت سوات میں کشیدگی شروع ہوجانے کے بعد سے خالی پڑے تھے۔ مقامی انتظامیہ ان واقعات کی ذمہ داری سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے حامیوں پر عائد کرتے ہیں۔ تاحال کسی تنظیم نے ان تازہ واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سوات میں ایک ہفتے کے دوران تشدد کے واقعات میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں سوات کے مختلف علاقوں میں تقریباً دو درجن سے زائد لڑکیوں اور لڑکوں کے سکولوں ، کالجوں اور ہوٹلوں کو نذرآتش کیا گیا ہے جبکہ پولیس چوکیوں اور اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کیا بیت اللہ محسود کے گرد گھیرا تنگ؟02 July, 2008 | پاکستان فرقہ وارانہ تصادم جاری 02 July, 2008 | پاکستان خیبر: لشکرِ اسلام کا کمانڈرگرفتار02 July, 2008 | پاکستان خبیر ایجنسی: آپریشن کی مخالفت30 June, 2008 | پاکستان سرحد: ’خود کش‘ لڑکیاں بازیاب02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||