عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | گزشتہ سال پشاور میں ایک خاتون خود کش حملہ آور نے خود کو ہلاک کیا |
صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک میں پولیس کا کہنا ہے کہ چند دن قبل’خودکش حملوں‘ کی غرض سے غائب ہونے والی دینی مدرسے کی دو طالبات کو لواحقین نے شمالی وزیرستان سے بازیاب کرا لیا ہے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے بدھ کو اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں مولانا فضل الرحمن کے دست راست سمجھے جانے والے دینی مدرسے کے مہتمم مولانا سمیع اللہ کو بیٹے سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک کے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پائی کے علاقے میں موجود دینی مدرسے میں زیر تعلیم دونوں لڑکیاں چند دن قبل اپنے گھر سے غائب ہوگئی تھیں جس کے بعد لواحقین نے ان کی تلاش شروع کردی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا لواحقین نے اپنے ذرائع سے پتہ چلایا کہ لڑکیاں’جہاد‘ میں شرکت کرنے کے لیے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی پہنچ چکی ہیں جہاں سے انہوں نے لڑکیوں کو بازیاب کرکے اپنےگھر پہنچادیا ہے۔ پولیس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبات نے ٹانک کی مقامی عدالت میں پیشں ہوکر یہ مؤقف اختیار کیا ہےکہ انہیں مدرسے کی ایک سنئر استانی کمپیوٹر پر ’جہادی‘ سی ڈیز دکھایا کرتی تھی جس سے جذباتی ہوکر انہوں نے ’جہاد‘ میں حصہ لینے کے لیےگھر سے بھاگ نکلنے کا فیصلہ کیا۔ لیاقت شاہ کے بقول پولیس نے تفتیش کی خاطر بدھ کی صبح دینی مدرسے کے مہتمم مولانا سمیع اللہ کو اپنے بیٹے سمیت گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق ان سے تحقیقات کی جارہی ہیں تاہم ابتدائی تفتیش میں انہوں نے اس بات سے انکار کردیا ہے کہ وہ لڑکیوں کو’جہاد‘ پر بھیجنے یا انہیں اس طرف راغب کرنے میں کسی طور ملوث ہیں۔ مولانا سمیع اللہ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دست راست سمجھے جاتے ہیں اور انہیں صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ضلع ٹانک کے زکوتہ و عشر کا چیئر مین مقرر کیا تھا۔ پاکستان بالخصوص قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ماضی میں ہونے والے مبینہ خودکش حملوں میں لڑکوں کے ملوث ہونا معمول ہے لیکن گزشتہ سال ایک خاتون کی جانب سے ہونے والے خودکش حملے کے بعد لڑکیوں کا اس قسم کے پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کی اپنی نوعیت کی دوسری رپورٹ سامنے آئی ہے۔ |