نوجوان کے خودکش بننے کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑی بڑی نیلی آنکھوں والا چودہ سالہ قبائلی لڑکا افغان انٹیلیجنس کے تحقیقاتی مرکز میں بےبسی اور معصومیت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ شاکراللہ نے اپنی داستان اسیری سناتے ہوئے بتایا کہ اسے اٹھارہ مارچ 2008 کو افغان انٹلیجنس کے اہلکاروں نے دو افغان ساتھیوں ڈاکٹر سخی گل اور محمد کے ساتھ بارود سے بھری ایک گاڑی کے ساتھ دہشت گردی کی مبینہ کارروائی کے لیے شمالی وزیرستان سے ملحق افغان شہر خوست میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ افغان انٹیلیجنس اہلکاروں کے مطابق شاکر اللہ کو 21 مارچ کو افغان سالِ نو کے جشن کے موقع پر مبینہ خودکش حملہ کے لیے افغانستان لایا گیا تھا۔ شاکر اللہ کے ساتھیوں سخی گل اور محمد اپنے جُرم اور منصوبے کا اقرار کر چکے ہیں۔ شاکر اللہ کا تعلق جنوبی وزیرستان کے جنڈولہ علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے والد اپنے گاؤں میں رہائش پذیر ہیں اور گزشتہ سال شکر اللہ کو ابتدائی اسلامی تعلیم کے لیے جنڈولہ کے نزدیک ایک گاؤں کے مدرسہ میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس پاکستانی لڑکے کے مطابق تین ماہ قبل جب اُنہوں نے قرآن کریم کو حرف بہ حرف پڑھنے کی تعلیم مکمل کر لی تو مدرسے کے انچارج مولوی صادق کے دوست اور مقامی طالبان کے کمانڈر مولوی نذیر اللہ نے اسے مبارک باد دی۔ اس نے شاکر سے کہا کہ ختمِ قرآن کے بعد جہاد پر جانے سے اسے بہت بڑی سعادت نصیب ہوگی۔ شاکر اپنی آنکھوں میں بے بسی کے آنسوؤں کو روکتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا کہ اگلی صبح مولوی نذیر نے دوبارہ آکر اُسے حکم دیا کے تیار ہوجاؤ تمہیں جانا ہے۔ شاکر اللہ کے بقول میں نےدرخواست کی کہ مجھے گھر جانے دیا جائے کیونکہ اسے اپنی ماں سے ملنا ہے لیکن عزیز اللہ نے کہا کہ وہ لیٹ ہو رہے ہیں واپس آکر اپنی ماں سے مل لینا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آپ نے انکار کیوں نہیں کیا، شاکر نے اپنے سامنے بیٹھے افغان انٹیلیجنس کے اہلکار کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہا کہ ’میرے اندر انکار اور بھاگنے کی قوت ختم ہو گئی تھی۔ میرے مدرسے کے اُستاد نے مجھے جانے پر مجبور کیا اس لیے میں خاموشی سے عزیز اللہ کے ساتھ میران شاہ چلاگیا‘۔
شاکر اللہ کا کہنا تھا کہ میرانشاہ میں بڑے بڑے بالوں والے طالبان کے ساتھ رات گزاری اور پھر دوسرے روز علی الصبح مولوی عزیز اللہ اُن کو پاک افغان سرحد پر غلام خان لے گئے جہاں عزیز اللہ نے اُن کو ایک گاڑی میں بٹھا کر خوست بھیج دیا۔ خوست ٹیکسی سٹینڈ پر ڈاکٹر سخی گل نے اسے وصول کیا اور اپنے ایک کمرے میں لے گیا جہاں رات گزارنے کے بعد ڈاکٹر سخی گل نے اسے ایک افغان شخص کے حوالے کیا جو اسے سائیکل پر خوست شہر کے تبلیغی مرکز لےگیا۔ تبلیغی مرکز میں تین دن کے دوران اسے تبلیغیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی تو اجازت تھی لیکن کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مسلسل تین روز تک اس کی نگرانی کی گئی اس دوران اس نے بھی کسی سے بات نہیں کی۔ چوتھے دن ڈاکٹر سخی گل ان کو موٹر سائیکل پر ایک گھر لے گیا جہاں انہوں نے رات گزاری۔ پانچویں دن صبح ڈاکٹر سخیگل اور محمد ایک گاڑی میں شہر کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں ساتھ لے گئے۔ شاکر اللہ کے بقول بعد میں اسے تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ جو ایک تھیلا رکھا گیا تھا وہ دھماکہ خیز مواد سے بھرا تھا۔ ’یہ بعد میں مجھے ایک ٹی وی سکرین پر بھی سکیورٹی اہلکار نے دکھایا جو کہ سفید آٹے جیسی چیز سے بھرا تھا‘۔ شاکر اللہ کا کہنا ہے کہ وہ کبھی کسی بھی طرح کی ملٹری ٹریننگ کے لیے نہیں گیا اور نا جس مدرسے میں وہ تعلیم حاصل کر رہے تھے جس میں لگ بھگ پچاس کے قریب طالبعلم تھے کبھی تربیت دی گئی تھی۔ شاکر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف اسے ہی جہاد پر بھیجا اور اس سے قبل کسی بھی قرآن ختم کرنے والے کو نہیں بھیجا۔ شاکر اللہ کا کہنا ہے اُسے اس کی مرضی کے خلاف یہاں لایا گیا ہے لیکن اگر اُسے رہائی مل جائے تو وہ سیدھا اپنی ماں کے پاس جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ مدرسے کے مولوی اور عزیز اللہ کے ساتھ وہ کیا کریں گے، اُن کا جواب تھا کہ وہ بہت مضبوط لوگ ہیں وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔ شاکر اللہ کے تین اور بھائی بھی ہیں اور ایک بہن ہے۔ بڑے بھائی رحمان متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں، دوسرا بھائی کمال الدین کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں مزدوری کرتا ہے اور تیسرا گاؤں میں اپنے والدین اور ایک بہن کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ شاکر سب بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے اور صرف قرآن پڑھ سکتا ہے۔ وہ کبھی سکول نہیں گیا۔ اُسے قرآن کے علاوہ کچھ پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ شاکر کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران افغان انٹیلیجنس نے انہیں نا کبھی مارا اور نا کبھی کوئی اذیت دی۔ شاکر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ماں کو بہت یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ جب وہ خوست شہر میں تھا تو دو مرتبہ اُس کے والد اُس سے ملنے آئے تھے لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔
سعید انصاری کا کہنا ہے کہ ان بچوں کے ذہنوں پر دہشت گرد بڑی آسانی کے ساتھ کنٹرول کر لیتے ہیں اور پھر اُنہیں ریمورٹ کنٹرول کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل بھی ایک 14 سالہ قبائلی لڑکے کو خوست کے گورنر ارسلا جمال پر خودکش حملہ سے پہلے گرفتار کر لیا گیا تھا جسے بعد میں صدر حامد کرزئی نے معاف کرتے ہوئے اس کے والدین کے حوالے کر دیا تھا۔ اس لڑکے کی رہائی کب ممکن ہوسکے گی اس بارے میں افغان حکام کا کہنا تھا کہ یہ کم عمر ہے لہذا اس پر عدالت میں مقدمہ بھی نہیں چلایا جاسکتا تاہم اس کی رہائی کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہی کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ہمارا دشمن ایک ہی ہے: حامد کرزئی26 December, 2007 | پاکستان پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی23 September, 2006 | پاکستان طالبان کے کیمپ بند کریں: کرزئی02 July, 2006 | پاکستان ’کرزئی اندرونی خلفشار ختم کریں‘22 May, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان باڑ کی تجویز قبول نہیں: کرزئی17 February, 2006 | پاکستان قیدیوں کی جلد رہائی پر اتفاق24 August, 2004 | پاکستان مشرف کی دعوت پر کرزئی کا دورہ25 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||