باڑ کی تجویز قبول نہیں: کرزئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے ساتھ سرحد پر دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیئے خاردار تار لگانے کی تجویز مسترد کرنے کے علاوہ بلوچستان میں مداخلت کے الزام کی بھی تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے وفد کے دیگر اراکین کے ہمراہ جن میں وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ بھی شامل تھے جمعہ کے روز صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں ولی باغ کا دورہ کیا اور پختون قوم پرست رہنما ولی خان کی وفات پر فاتحہ ادا کی۔ حامد کرزئی تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک ولی باغ میں گزارنے کے بعد ہیلی کاپٹر میں واپس روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حامد کرزئی نے حکومت پاکستان کی سرحد پر خار دار تار لگانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دشمنوں کے درمیان لگائی جاتی ہے دوستوں کے درمیان نہیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ لوگوں کو تقسیم کرتی ہے اس لیئے وہ اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے دہشت گردوں کو نہیں روکا جاسکتا‘۔ بلوچستان میں مداخلت کے الزام کو بھی افغان صدر نے مسترد کیا اور کہا کہ ان کے ملک کی تمام تر توجہ اس وقت اپنے ملک کی تعمیر نو پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم خود مداخلت کے شکار رہے ہیں ہم کیسے یہ دوسروں کے ساتھ کر سکتے ہیں‘۔ طالبان کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعتدال پسند طالبان سے مذاکرات جاری ہیں تاہم تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ’ملا محمد عمر نہ صرف افغانوں بلکہ اسلام کا بھی دشمن تھا۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا جواب انہیں عدالت کے سامنے دینا ہوگا‘۔ | اسی بارے میں حامد کرزئی کی مشرف سے ملاقات 15 February, 2006 | پاکستان کرزئی پاکستان پہنچ گئے15 February, 2006 | پاکستان ’سرداروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘06 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||