قیدیوں کی جلد رہائی پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کے قیدیوں کو جلد رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان نے منگل کی سہ پہر ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان میں قید چار سو کے قریب پاکستانی قیدی صدر کرزئی نے رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ دو سے اڑہائی سو کے قریب جو افغانی قیدی پاکستان میں ہیں انہیں وزیراعظم چودھری شجاعت نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اتفاق پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے پڑوسی ملک کے صدر حامد کرزئی کی وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے ملاقات میں کیا گیا۔ افغان صدر منگل کی شام واپس کابل روانہ ہوگئے۔ صدر کرزئی کے پاکستان سے شدت پسندوں کے افعانستان میں داخلے سے متعلق بیان پر ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں شدت پسندوں کے داخلے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا- البتہ پاکستان کی اس ضمن میں سخت اقدامات کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آسانی سے عبور کی جانے والی طویل سرحد پر پوری طرح کنٹرول کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک–افغان سرحد پر ستر ہزار فوج تعینات کی گئی ہے اور شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے، کئی ہلاک اور گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کے خلاف پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ صدر مشرف سے صدر کرزئی کی ملاقات کے متعلق انہوں نے کہا کہ مہمان صدر نے ’سرحد پار دہشت گردی‘ کا معاملہ اٹھایا تھا اور پاکستانی صدر نے انہیں کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین افغانستان یا کسی اور ملک کے خلاف شدت پسند کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گا۔ ترجمان نے پاک بھارت مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیاں مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وزراء خارجہ کے درمیاں اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں دلی میں بات چیت ہوگی اور دونوں ممالک کو مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا چاہیے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ بھارت کے ساتھ اب تک کے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا تاثر درست نہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کا انحصار دونوں ممالک کے حکام سے زیادہ سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔ انہوں نے بھارتی وزارت داخلہ کی ان کے زیر انتظام کشمیر میں’سرحد پار دہشت گردی‘ کے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نازک لمحات ہیں، دونوں ممالک میں مذاکرات چل رہے ہیں اور اعتماد کی فضا بحال رکھنی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||