پاکستان میں کرزئی کی مصروفیات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے جس میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی میں تعاون جاری رکھنے اور قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیاں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے البتہ مہمان وفد میں شامل وزراء پاکستانی ہم منصبوں سے منگل کے روز بات چیت کریں گے۔ حکام کے مطابق افغان صدر پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے ملاقات اور ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز، میں خطاب بھی منگل کو کریں گے۔ افغان صدر کے وفد میں وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ ، وزیر مالیات اشرف غنی، وزیرتجارت سید مصطفیٰ کاظمی، وزیر برائے پناہ گزینوں کی واپسی عنایت اللہ اور وزیر برائے سرحدی امور عارف نورزئی شامل ہیں جو اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے متعلقہ امور پر بات کریں گے۔ حکام کے مطابق دونوں صدور نے اقتصادی اور تجارتی تعاون کووسیع کرنے، افغانستان میں امن کے قیام، تعمیر نو، اکتوبر کے مجوزہ صدارتی انتخابات میں مدد، منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام، چار سو کے قریب پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور دیگر معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ افغان صدر کا یہ پاکستان کا چوتھا دورہ ہے اور اس دورے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ’پڑوسی ملک شدت پسندوں کو افغانستان میں داخل ہونے سے نہیں روک رہا،۔ ان کے اس الزام کی پاکستان نے تردید کی تھی۔ ایک سوال پر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے اندراج کا عمل عالمی اداروں کے تعاون سے جاری ہے اور وہ پرامید ہیں کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب میں پناہ گزیں ووٹ دے سکیں گے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نو اکتوبر کے مجوزہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لیے صدر کرزئی اپنی مہم القائدہ اور طالبان کے خلاف کاروائی اور تعمیر نو کے اقدامات پر ہی چلائیں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان سے اس ضمن میں مزید مدد حاصل کریں ۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان صدر واہگہ کے راستے بھارت سے تجارت کی سہولت حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو اس کا انتخابات میں انہیں خاصا فائدہ ہوسکتا ہے۔لیکن اس ضمن میں اب تک پاکستان تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے۔ افغان صدر کی کوشش ہوگی کہ وہ سگریٹ، کوکنگ آئل، آٹوپارٹس اور دیگر اشیاء جن کی پاکستان سے درآمد پر پابندی ہے وہ ختم کرائیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے مہمان صدر کے اعزاز میں ایوان صدر میں عشائیہ بھی دیا جس میں وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور نامزد وزیراعظم شوکت عزیز سمیت بیشتر وزراء، سینیئر فوجی و سویلین بیوروکریٹس نے بھی شرکت کی۔ وزراء کے ایوان صدر کی دعوت میں شرکت کے باعث قومی اسمبلی میں ان کی غیر حاضری پر حزب اختلاف نے احتجاج بھی کیا۔ قبل ازیں پیر کی سہ پہر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جب افغان صدر دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا، انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی اور ایوان صدر میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||