BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 04:38 GMT 09:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا بیت اللہ محسود کے گرد گھیرا تنگ؟

طالبان فائل فوٹو
کیا لڑاؤ اور حکومت کرو کی پرانی حکمت عملی آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے؟
پاکستان کی حکومت نے چند دن قبل دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات، ترقیاتی منصوبوں اور آخری آپشن کے طور پر طاقت کے استعمال کی سہ جہتی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ مگر خیبرایجنسی میں’ صراط مستقیم‘ کے نام سے آپریشن شروع کرکے حکومت آخری حربے کو پہلے حربے کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں جب پہلی مرتبہ وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے غیر معمولی اجلاس میں اس سہ جہتی پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی تھی تو اس دوران قبائلی علاقے اور شورش زدہ سوات میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے۔

طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی وزیرستان سے متصل صوبہ سرحد کے جنڈولہ کے علاقے میں نعمت خیل بیٹنی قبائل کے امن کمیٹی کے تئیس ارکان کو طالبان نے اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔

سوات میں طالبان اور صوبائی حکومت کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد معمول کی بات چیت میں تعطل پیدا ہوگیا۔

اس دوران جنڈولہ اور نوشہرہ میں بیت اللہ محسود کے بعض ساتھیوں کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

بیت اللہ اور آئی ایس آئی
بیت اللہ محسود کی زبان سے پہلی مرتبہ آئی ایس آئی کے خلاف اس قسم کی سخت باتیں سننے کو مل رہی ہیں حالانکہ اس سے قبل ان پر بعض حلقوں کی جانب سے یہی الزامات لگتے رہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں پر ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

چند دن بعد خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے پانچ ہزار اہلکاروں نے مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع کردی جو ہنوز جاری ہے۔

ایک خاص ترتیب کے ساتھ رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان اپنے ترجمان مولوی عمر کی بجائے خود کر کے مستقبل کے منظر نامہ کو کچھ حد تک واضح کر دیا۔

مگر منگل کے روز شمالی وزیرستان کے طالبان سربراہ حافظ گل بہادر اور جنوبی وزیرستان میں حکومت یافتہ مولوی نذیر نے بیت اللہ محسود کے خلاف ’مقامی تحریک طالبان‘ کے نام سے نئی تنظیم بنا کر اسے مزید وضاحت بخشی۔

مولوی نذیر کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے طالبان سربراہ حافظ گل بہادر اور وانا کے طالبان نے بیت اللہ محسود کی جانب سے ازبک جنگجؤوں کی مسلسل پشت پناہی سے مجبور ہوکر آپس میں اتحاد کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے اوائل میں ازبک جنگجؤوں کی وانا سے بیدخلی کے بعد انہیں بیت اللہ محسود نے پناہ دی جنہوں نے ان کے کمانڈر خانان خان کو قتل کردیا اور کمانڈر میٹھا خان پر کئی ناکام قاتلانہ حملے کیے۔

چند ماہ قبل وانا کے دورے کے موقع پر مولوی نذیر نے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ انہوں نے اور حافظ گل بہادر نے تحریک طالبان میں اس لیے شمولیت اختیار نہیں کی کہ بیت اللہ محسود نےانہیں ازبکوں کی مدد نہ کرنے کی ضمانت نہیں دی۔

حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر دونوں کا تعلق وزیر قبیلے سے ہے اور محسودوں اور وزیروں کے درمیانی قبائلی مخاصمت صدیوں سے چلی آرہی ہے تاہم ان دونوں کو شمالی وزیرستان کے ایک اور اہم طالبان سربراہ مولانا صادق نور کی بھی پس پردہ حمایت حاصل ہے جن کا تعلق داوڑ قبیلے سے ہے۔

مصالحت کی کوششیں
طالبان ترجمان مولوی عمر نے حاجی نامدار اور بیت اللہ کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور سنیچر اور اتوار کی شب حاجی نامدار کے مدرسے میں جو دھماکہ ہوا تھا اسی رات کومولوی عمر اور ان کے درمیان طویل گفت و شنید ہوئی تھی۔

اس نئی تنظیم کی تشکیل سے قبل قبائلی علاقوں میں طالبان پر زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے افغان نژاد مولانا جلا ل الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بہت کوشش کی کہ بیت اللہ محسود کے خلاف کسی قسم کا کوئی محاذ نہ بن پائے۔ حافظ گل بہادر سے بات چیت کرنے کے باوجود دونوں ناکام رہے۔

حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر نے بیت اللہ محسود مخالف اتحاد کو وسعت دینے کے لیے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سرگرم امر بالمعروف و نہی عنی المنکر کے سربراہ حاجی نامدار سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حاجی نامدار اور بیت اللہ محسود کے درمیان اختلافات کی نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے یکم مئی کو حاجی نامدار پر مبینہ خود کش حملہ کیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

انہوں نے خود کش حملے کا الزام بیت اللہ محسود پر لگاتے ہوئے خود کش حملہ آور کی لاش قبائلی جرگے کی توسط سے بیت اللہ محسود کے دست راست اور کرم ایجنسی میں طالبان کمانڈر حکیم اللہ کے حوالے کردی تھی۔

محسودوں اور وزیروں کا جھگڑا
حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر دونوں کا تعلق وزیر قبیلے سے ہے اور محسودوں اور وزیروں کے درمیانی قبائلی مخاصمت صدیوں سے چلی آرہی ہے تاہم ان دونوں کو شمالی وزیرستان کے ایک اور اہم طالبان سربراہ مولانا صادق نور کی بھی پس پردہ حمایت حاصل ہےجنکا تعلق داوڑ قبیلے سے ہے۔

طالبان ترجمان مولوی عمر نے حاجی نامدار اور بیت اللہ کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور سنیچر اور اتوار کی شب حاجی نامدار کے مدرسے میں جو دھماکہ ہوا تھا اسی رات کومولوی عمر اور ان کے درمیان طویل گفت و شنید ہوئی تھی۔

طالبان کی نئی تنظیم کی تشکیل اور جنڈولہ میں نعمت خیل بیٹنی قبائل کے امن کمیٹی کے سربراہ تُرکستان کی بیت اللہ محسود کے خلاف مشترکہ عزائم سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیت اللہ محسود کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ محسود جغرافیائی لحاظ سے چاروں طرف سے بیٹینی اور وزیر قبائل کے گھیرے میں ہیں۔

خود بیت اللہ محسود کو بھی اب اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے اس لیے انہوں نے چند دن قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی لڑائی بیٹنی قبائل سے نہیں بلکہ صرف تُرکستان کے ساتھ ہے جبکہ انہوں نے مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر کے اتحاد کے بعد منگل کو میران شاہ میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کردیا ہے۔

اس پمفلٹ میں بیت اللہ نے حافظ گل بہادر سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مجاہد کا خطاب دیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ایک مبینہ سازش کے ذریعے انہیں ان کے ساتھ لڑانا چاہتی ہے مگر ’وہ حافظ گل بہادر کے ساتھ ہرگز لڑنا نہیں چاہتے ہیں۔‘

بیت اللہ محسود کی زبان سے پہلی مرتبہ آئی ایس آئی کے خلاف اس قسم کی سخت باتیں سننے کو مل رہی ہیں حالانکہ اس سے قبل ان پر بعض حلقوں کی جانب سے یہی الزامات لگتے رہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں پرہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ کئی سال کی کوششوں کے بعد بالآخرطالبان سے نمٹنے کے لیے’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کی پرانی حکمت عملی آزمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلحہمانگ میں اضافہ
درہ آدم خیل میں اسلحہ کی قیمتیں بڑھ گئیں
چیک پوسٹجگہ جگہ تلاشی
سوات میں لوگ چیک پوسٹوں سے پریشان
درہ آدم خیلاک نیا میدانِ جنگ
درہ آدم خیل میدان جنگ بننے تک کیسے پہنچا؟
سواتسیاح کہاں چلےگئے؟
سوات میں امن معاہدے کے بعد معاشی مشکلات
مقامی طالبانآدم خیل کے’طالبان‘
بی بی سی نمائندے کے درہ آدم خیل میں کیا دیکھا
جرگے پر خود کش حملہجرگے پر حملہ
درہ آدم خیل میں جرگہ پر حملے میں ہلاکتیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد