BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرقہ وارانہ تصادم جاری

 لشکراسلام چیف منگل باغ
منگل باغ کی تنظیم لشکرِاسلام اور تحریک الانصار کے درمیان مسلح تصادم جاری ہے
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ نے کہا ہےکہ کارروائی کے باوجود علاقے میں مبینہ اغواءکاروں اور دیگر ’جرائم پیشہ افراد‘ کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی تاہم سکیورٹی فورسز کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی جائے گی۔

دوسری طرف تحصیل باڑہ میں کرفیو بدستور برقرار ہے جبکہ آپریشن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کی دعوت پر پشاور اور خیبر ایجنسی کے مقامی صحافیوں نے دور افتادہ علاقے تیراہ میں ان سے ملاقات کی ہے۔ منگل باغ نے پہلی مرتبہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی میں ان کے مسلح ساتھی کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کریں گے۔ ان کے بقول فرنٹیئر کور کے اہلکار پاکستانی ہیں لہذا وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے۔

تاہم انہوں نے واضح کردیا ہے کہ ان کی تنظیم تحصیل باڑہ میں مبینہ اغواء کاروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف اپنا مشن جاری رکھے گی۔ انہوں نے خیبر ایجنسی سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کےرکن اور وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حمیداللہ جان نے انتخابات کے دوران دو مقامی افراد کے ذریعے ستر لاکھ کی ضمانت دی تھی کہ کامیاب ہونے کے بعد وہ لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دینگے اور اگر ایسا ہوا تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دینگے۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر حمیداللہ جان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی مگر ان کا فون مسلسل بند ملا۔

منگل باغ کا مزید کہنا تھا کہ تیراہ کی وادی میں گیارہویں روز بھی لشکرِ اسلام اور انصارالاسلام کے مسلح حامیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ ان کے بقول جھڑپوں میں اب تک لشکر اسلام کے چوبیس اور انصارالاسلام کے تیس کے قریب حامی ہلاک ہوچکے ہیں۔

صحافیوں کے اس گروپ میں شامل ولی خان شنواری نے جنگ زدہ علاقے کی صورتحال کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ مسلح تنظیموں کے درمیان گزشتہ گیارہ روز سے جاری لڑائی کی وجہ علاقے کی سڑکیں سنسان پڑی تھیں اور ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہے۔ان کے بقول علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

دوسری طرف لشکرِ اسلا م کے خلاف تحصیل باڑہ میں چار روز قبل شروع کی جانے والی کاروائی میں منگل کے روز کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے تاہم علاقے میں کرفیو بدستور برقرار ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے تحصیل باڑہ کے پندرہ کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔

مقامی طالبان(فائل فوٹو)ناکام حکمت عملی
’طاقت کی بجائے بات چیت سے بات نہیں بنی‘
خیبر میں آپریشن
لشکرِ اسلام کے خلاف فوج کا آپریشن:تصاویر
باڑہ کا بازارباڑہ میں آپریشن
لوگوں کا نقصان اور مذہبی تنازعے
گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟
بیت اللہ نے آئی ایس آئی مخالف بات پہلے نہیں کی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد