BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 June, 2008, 01:06 GMT 06:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ آپریشن: لوگوں کا نقصان، مذہبی تنازعے

باڑہ کا بازار
حالیہ کارروائی میں یہ بات غور طلب ہے کہ اس میں سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں

قبائلی علاقے باڑہ میں ’آپریشن مبینہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف‘ کیا جارہا ہے لیکن نقصان تاجروں، دوکاندراوں اور عام لوگوں کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

جان کا حِصّہ
 ہماری تنظیم سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہرگز کوئی مزاحمت نہیں کریگی کیونکہ فورسز ہماری جان کا حصہ ہے اور ہم کیسے اپنی جان سے لڑ سکتے ہیں
رحمان شاہ آفریدی
باڑہ میں گزشتہ دو دنوں سے تمام بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ کئی لوگوں نے خوف و ہراس کی وجہ سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی بھی کی ہے۔ باڑہ میں ایک دوکاندر عارف جان نے کہا کہ ’ہمارا کیا قصور ہے، مسئلہ حکومت اورمذہبی تنظیموں کے بیچ ہے ہمیں کیوں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ باڑہ میں آپریشن یا لڑائی ہوتی ہے تو نشانہ عام لوگ ہی بنتے ہیں۔ عارف جان کے مطابق گزشتہ سال بھی حکومت نے کارروائی کا آغاز کیا تو ایک ماہ تک تمام بازار بند رہے اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کئی لوگ مارے بھی گئے تھے۔

باڑہ کے بند بازار
خیبر ایجنسی میں ویسے تو تقریباً ڈھائی سال سے کشیدگی چلی آ رہی ہے تاہم اس میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب دو مبینہ شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصار الاسلام نے مسلک کی بنیاد پر اپنے اختلافات ایف ایم چینل کی بجائے بندوق سے حل کرانے کے راستے تلاش کرنے شروع کیے۔

گزشتہ دو سالوں میں اس قسم کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس بار مذہبی عناصر کے خلاف آپریشن کی فوری وجہ لشکر اسلام کے رضا کاروں کے ہاتھوں پشاور سے عیسائیوں کا اغواء ہونا بنا۔

خیرایجنسی میں مذہبی تنظیموں کا اپنی طرز کا ’اسلام‘ لوگوں پر نافذ کرنے کی کارروائیاں کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ قبائلی علاقے کا ایک عام شخص بھی اس سے بخوبی واقف ہے۔

لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے تمام تر وسائل کے باجود ان تنظیموں کو کھلی آزادی دے رکھی ہے جس سے نہ صرف ان کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں بھی طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ب

کارروائی میں تباہ ہونے والا ایک مذیبی تنظیم کا مرکز
اڑہ میں عام لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ان مذہبی تنظیموں کو درپردہ حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے کیونکہ جب ان کی ضروت ہوتی ہے تو ان کو منظرِ عام پر لایا جاتا ہے جبکہ مقصد پورا ہونے پر ان کو ایک طرف کردیا جاتا ہے۔

حالیہ کارروائی میں یہ بات غور طلب ہے کہ اس میں سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ عام طورپر شدت پسند تنظموں کا کام ہی بندوق سے ہر بات کا فیصلہ کرانا ہوتا ہے لیکن خیبر میں جاری کارروائئ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دن دہاڑے لشکر اسلام اور انصار الااسلام کے مراکز، گھروں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن جواب میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہو رہی۔

باڑہ میں لشکر اسلام کے ایک کمانڈر رحمان شاہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی تنظیم سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہرگز کوئی مزاحمت نہیں کریگی کیونکہ فورسز ہماری جان کا حصہ ہے اور ہم کیسے اپنی جان سے لڑ سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا کام باڑہ میں اسلامی نظام کا نفاذ اور جرائم کا خاتمہ ہے، اگر حکومت ان کے کمانڈر منگل باغ کو بھی گرفتار کر لے تب بھی وہ کسی سکیورٹی اہلکار پر حملہ نہیں کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایجنڈا ہی فورسز کے خلاف لڑنا نہیں بلکہ لوگوں کو اغواء برائے تاوان اور قتل و غارت سے نجات دلانا ہے۔ رحمان شاہ اس بات کا کوئی واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر ان کو سکیورٹی فورسز واقعی اپنے جان سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر وہ قانون ہاتھ میں لے کر لوگوں کو سزائیں کیوں دیتے ہیں ان پر اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنے کی کوششیں کیوں کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد