باڑہ آپریشن: لوگوں کا نقصان، مذہبی تنازعے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باڑہ میں ’آپریشن مبینہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف‘ کیا جارہا ہے لیکن نقصان تاجروں، دوکاندراوں اور عام لوگوں کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ باڑہ میں آپریشن یا لڑائی ہوتی ہے تو نشانہ عام لوگ ہی بنتے ہیں۔ عارف جان کے مطابق گزشتہ سال بھی حکومت نے کارروائی کا آغاز کیا تو ایک ماہ تک تمام بازار بند رہے اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کئی لوگ مارے بھی گئے تھے۔
گزشتہ دو سالوں میں اس قسم کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس بار مذہبی عناصر کے خلاف آپریشن کی فوری وجہ لشکر اسلام کے رضا کاروں کے ہاتھوں پشاور سے عیسائیوں کا اغواء ہونا بنا۔ خیرایجنسی میں مذہبی تنظیموں کا اپنی طرز کا ’اسلام‘ لوگوں پر نافذ کرنے کی کارروائیاں کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ قبائلی علاقے کا ایک عام شخص بھی اس سے بخوبی واقف ہے۔ لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے تمام تر وسائل کے باجود ان تنظیموں کو کھلی آزادی دے رکھی ہے جس سے نہ صرف ان کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں بھی طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ب
حالیہ کارروائی میں یہ بات غور طلب ہے کہ اس میں سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ عام طورپر شدت پسند تنظموں کا کام ہی بندوق سے ہر بات کا فیصلہ کرانا ہوتا ہے لیکن خیبر میں جاری کارروائئ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دن دہاڑے لشکر اسلام اور انصار الااسلام کے مراکز، گھروں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن جواب میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہو رہی۔ باڑہ میں لشکر اسلام کے ایک کمانڈر رحمان شاہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی تنظیم سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہرگز کوئی مزاحمت نہیں کریگی کیونکہ فورسز ہماری جان کا حصہ ہے اور ہم کیسے اپنی جان سے لڑ سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کا کام باڑہ میں اسلامی نظام کا نفاذ اور جرائم کا خاتمہ ہے، اگر حکومت ان کے کمانڈر منگل باغ کو بھی گرفتار کر لے تب بھی وہ کسی سکیورٹی اہلکار پر حملہ نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایجنڈا ہی فورسز کے خلاف لڑنا نہیں بلکہ لوگوں کو اغواء برائے تاوان اور قتل و غارت سے نجات دلانا ہے۔ رحمان شاہ اس بات کا کوئی واضح جواب نہیں دے سکے کہ اگر ان کو سکیورٹی فورسز واقعی اپنے جان سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر وہ قانون ہاتھ میں لے کر لوگوں کو سزائیں کیوں دیتے ہیں ان پر اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنے کی کوششیں کیوں کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا‘29 June, 2008 | پاکستان پشاور طالبان کے گھیرے میں29 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں مزید ہلاکتیں23 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی :سترہ خاصہ دار اغواء23 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں جھڑپیں، آٹھ ہلاک21 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں فائر بندی17 April, 2008 | پاکستان پاک افغان شاہراہ احتجاجاً بند 04 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||