BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 June, 2008, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی میں مزید ہلاکتیں

قبائلی(فائل فوٹو)
مسلح شدت پسندوں کے درمیان تصادم میں متعدد بچے اور خواتین بھی ہلاک ہوچکی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کےساتھ ہی گزشتہ تین روز سے جاری لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ کے شلوبر، زخہ خیل، سنڈھ پاک، درپیر اور آس پاس کے گاؤں میں مقامی شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے مسلح حامیوں کے درمیان لڑائی پیر کے روز بھی جاری رہی جس میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ خالد کُنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ تیراہ میں شدت پسند تنطیموں کے درمیان تیسرے روز بھی جھڑپیں جاری ہیں اور سنیچر اور اتوار کوہونے والی جھڑپوں میں دونوں طرف سے پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم ایک اور حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پیر کے روز ہونے والی جھڑپوں میں آخری اطلاعات ملنے تک پانچ افراد ہلاک ہوگئے، جس سے تین روز سے جاری لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق فریقین ایک دورسرے کے خلاف، مارٹر گولے، راکٹ اور میزائل کے علاوہ ہلکے ہتھیاروں کا بھی آزادانہ استعمال کررہے ہیں۔

تین روز گزرنے کے باوجود بھی مقامی انتظامیہ لڑائی روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ایک اہلکار کے بقول حکومت نے ابھی تک اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی حکمت عملی واضح نہیں کی ہے۔

جس علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اُسے انصار السلام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ لشکر اسلام کی کوشش ہے کہ تحصیل باڑہ کے بعد ان علاقوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔

خیبر ایجنسی میں مبینہ طور پر سرگرم کئی مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے لڑائیاں جاری ہیں، جس میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جاچکےہیں۔ مرنے والوں میں بچوں اور خواتین کی بھی کافی تعداد شامل ہے۔

علاقےمیں عام تاثر ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے سنگم پر واقع اس قبائلی ایجنسی میں حکومتی عملداری تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
مہمند رائفلز کےدس اہلکار رہا
04 September, 2007 | پاکستان
’طالبان سے مفاہمت مشکل‘
25 April, 2008 | پاکستان
اورکزئی جھڑپ: مزید ہلاکتیں
04 October, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد