اورکزئی جھڑپ: مزید ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پیر کے روز ایک مزار کی ملکیت کے تنازعے پر شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے شدت اختیار کر لی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق لڑائی میں اب تک سات افراد ہلاک اور پندرہ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ علاقے سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے مورچوں پر مارٹر گنوں، راکٹ لانچرز اور بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ شب ایک فریق نے مزار کے ساتھ ملحقہ مدرسے پر قبضہ کر لیا اور مخالف فریق کے چارگھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ تاہم اس جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز میزائل حملے میں شدید زخمی ہونے والے دو افراد آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ سرکاری اور دیگر ذرائع کے مطابق اب تک جھڑپوں میں دونوں جانب سے سات افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ دو دن سے جاری اس لڑائی کی وجہ سے علاقے میں سخت کشیدگی اور خوف وہراس کی فضا قائم ہے۔ قریبی علاقوں میں واقع تمام سکول اور بازار بند ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ فسادات پیر کے روز اس وقت شروع ہوئے جب ایک فرقے کے پچاس کے قریب مسلح افراد نے لوئر اورکزئی کے علاقے لیڑی میں واقع متنازعہ مزار ’میاں زیارت‘ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر مخالف فریق کے حامیوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ادھر دوسری جانب مقامی انتظامیہ فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے میں اب تک مکمل طور پرناکام رہی ہے۔ اورکزئی اینجسی کے پولیٹکل ایجنٹ شیر عالم محسود نے کلایہ سے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ دونوں فریقین سے رابطے میں ہے اور ایک جرگہ بھی بلایا گیا ہے تاکہ فریقین کے مابین فوری جنگ بندی کرائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس میں زیادہ شدت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصدیق کرنامشکل ہے کہ لڑائی میں اب تک کتنے لوگ مارےگئے ہیں تاہم ان کی اطلاعات کے مطابق فسادات میں دو افراد ہلاک اور آٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دریں اثناء مشتی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایجنسی کونسلر مہربان خان نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ منگل کے روز جھڑپوں میں چند شرپسند عناصر نے لیڑی کے قریبی علاقہ میں چارگھروں کو آگ لگائی اور ایک مدرسے پر بھی قبضہ کیا تھا تاہم اس تازہ جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں۔ واضح رہے کہ لیڑی میں واقع ’میاں زیارت‘ کا مزار دونوں مذہبی فرقوں کے مابین ایک متازعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس پر کئی سالوں سے ملکیت کا تنازعہ چلا آرہا ہے۔ ماضی میں اس مزار پر دونوں فرقوں کے مابین کئی مرتبہ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان میں قبائیل میں لڑائی25 August, 2006 | پاکستان کرم ایجنسی تصادم، پندرہ ہلاک21 June, 2006 | پاکستان قبائلی روایت کے تحت گھر مسمار 04 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||