خیبر ایجنسی :سترہ خاصہ دار اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نےسترہ کے قریب خاصہ داروں کو مختلف چیک پوسٹوں سے اغواء کر لیا ہے۔ تحصیل جمرود کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ رسول خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شب جمرود اور لنڈی کوتل کے درمیان واقع چیک پوسٹوں پر تعینات خاصہ دار فورس کے تقریباً سترہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اغواء کاروں کے بارے میں ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان کے بقول اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کسی قسم کے اقدامات اس لیے نہیں کیے گئے ہیں کیونکہ خاصہ دار فورس ایک باقاعدہ حکومتی فورس نہیں ہے بلکہ یہ مقامی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کا کام اپنے اپنے علاقوں میں علاقائی ذمہ داری کے تحت امن امان کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی مشران علاقائی ذمہ داری کے تحت مغویان سے بات چیت کرکے ان اہلکاروں کو بازیاب کرالیں۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خاصہ دار فورس حکومت کا باقاعدہ حصہ ہوتی ہے جس سے حکومت کی جانب سے باقاعدہ تنخواہوں، وردیاں اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے خاصہ داروں کو ایک ایسے وقت اغواء کیا گیا ہ جب اسی دن اغواء کاروں نے عیسائی برادری کے سولہ افراد کو رہا کردیا تھا۔ خیبر ایجنسی میں مقامی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ حکومت اغواء اور دیگر ’جرائم، کے بارے میں سب کچھ جاننے کے باوجود یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے کہ اس واقعے میں نامعلوم مسلح افراد‘ ملوث ہیں۔ تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں سوات مذاکرات: طالبان کا انکار20 June, 2008 | پاکستان امن معاہدوں کی سیاست20 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی میں جھڑپیں، آٹھ ہلاک21 June, 2008 | پاکستان کوہاٹ میں کیبل نیٹ ورک بند 22 June, 2008 | پاکستان ’فرقہ وارانہ کارروائی،آٹھ ہلاک‘23 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||