BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 June, 2008, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فرقہ وارانہ کارروائی،آٹھ ہلاک‘

کرم ایجنسی(فائل فوٹو)
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔

کُرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل علی زئی کے اڑولی فقیر خُمسہ کے علاقے میں آٹھ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ مقامی لوگ ہلاک کیے جانے والے افراد کا تعلق اہل تشیع سے بتا رہے ہیں جن کی لاشیں توری قبیلے نے اپر کُرم پہنچا دی ہیں۔

اس سلسلے میں کُرم ایجنسی کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعے کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کر دیا البتہ ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے بھی مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

کُرم ایجنسی میں شیعہ اور سنی مسلک کے ماننے والوں کے درمیان جھڑپوں اور ایک دوسرے کے افراد کو’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

چند دن قبل بھی پاڑہ چنار جانے والے ایک قافلے پر سُنیوں کے علاقے میں حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اس علاقے پر گن شپ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں چار افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت اٹھائیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

دونوں فرقوں کے عمائدین پولٹیکل انتظامیہ کو حالات پر قابو نہ پانے کے لیے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد