BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 April, 2008, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی کیلیے سو رکنی جرگہ

کرم ایجنسی
کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین مرتبہ فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوچکی ہیں
صوبہ سرحد کے گورنر نے فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ کرم ایجنسی میں سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے ایک سو رکنی گرینڈ جرگہ تشکیل دیا ہے۔

دوسری طرف حکومت نے کرم ایجنسی میں فریقین میں جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کے اعداد شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے فسادات میں مجموعی طور پر دو سو پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

بدھ کو ضلع کوہاٹ کے رابطہ آفسر عمر خان آفریدی نے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ گورنر سرحد اویس احمد غنی کی ہدایت پر سو رکنی گرینڈ جرگہ تشکیل دیدیا گیا جو علاقے میں پائیدار امن کی خاطر سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان تمام متنازعہ امور کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔

ان کے بقول جرگے میں دونوں مسالک کے پچیس پچیس افراد شامل کیے گئے ہیں جب کہ باقی پچاس عمائدین کاتعلق درہ آدم خیل، پانچ قبائلی ایجنسیوں اور ہنگو سے ہے ۔ان کے مطابق جرگہ دس مئی سے اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کرے گا۔

عمر آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر جرگہ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو آخری مرحلے میں شیعہ اور سنی مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی اورسیاسی قائدین کو بھی شریک کیا جائے گا۔ان کے بقول حکومت نے فریقین سے دو دو کروڑ روپے نقد اور چار چار کروڑ روپے کی تحریری ضمانت بھی حاصل کرلی ہے۔

ہلاکتیں چھ سو سے زائد ہوئیں
 گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ تقریباً ًپانچ ہزار افراد پارہ چنار سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں
فریقین

دوسری طرف حکومت نے پہلی مرتبہ فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے حتمی اعداد شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق جھڑپوں میں دو سو پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سو افراد نومبر، نوے دسمبر اور پندرہ افراد حالیہ فسادات کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم فریقین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ تقریباً ًپانچ ہزار افراد پارہ چنار سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے بھی قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ کئی سال کے دوران فرقہ ورانہ فسادات کے بعد حکومت کی طرف سے تشکیل پانے والوں جرگوں نےفریقین کے درمیان امن معاہدے کرائے ہیں مگر وہ پائیدار ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عددی اعتبار سے اتنا بڑا جرگہ تشکیل دیا جارہا ہے۔

 پاڑہ چنار (فائل فوٹو)’ہر طرف لاشیں ہیں‘
پارہ چنار میں لڑائی کے عینی شاہد نے کیا دیکھا
کرم ایجنسیکرم ایجنسی میں امن
شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ
پارہ چنارپارہ چنار کی تباہی
’ایسا لگتا ہے کہ یہاں بڑی جنگ لڑی گئی ہے‘
کرم ایجنسی’مذہب کے نام پر‘
کرم ایجنسی کے فسادات اور امن معاہدے
کرم ایجنسی
کرم ایجنسی کے فسادات کی تصاویر
زخمیوں کے بیانات
’کرم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر لڑائی‘
اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
کرم ایجنسی:12 ہلاک37 زخمی
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد