کرم ایجنسی:12 ہلاک37 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں فوج نےحساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جسکے بعد سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان جمعہ سے جاری لڑائی غیراعلانیہ طور پر بند ہوگئی ہے۔تاہم پیر کو لوئر کرم میں ہونے والے مختلف واقعات میں بارہ افراد ہلاک جبکہ سینتیس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چار دنوں سے جاری لڑائی کے دوران نوے سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر مرنے والوں کی تعداد 80 بتائی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے اتوار کی رات پارہ چنار میں واقع امام بار گاہ اور مسجد کے علاوہ بعض دیگر مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد فریقین کے درمیان لڑائی بند ہوگئی ہے۔ انکے بقول ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ان کے پاس کوئی حتمی رپورٹ نہیں ہے تاہم اب تک 80 افراد کےہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار بھی شامل ہیں۔لڑائی کے دوران سکیورٹی فورسز کے بتیس اہلکاربھی زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ چاردنوں کی لڑائی کے دوران نوے سے زائد افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ساڑھے دس بجے پارہ چنار سے تقریباً تیس کلومیٹر دور واقع سدہ بازار میں نامعلوم مقام سے فائر کیے گئے دو میزائل سبزی منڈی میں اس وقت گرے جب عام لوگ سودا سلف لینے میں مصروف تھے جبکہ اس دوران ایک اور میزائل آکر سرکاری بینک پر لگا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ سدہ ہسپتال کے ڈاکٹر ہاشم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس آٹھ لاشیں اور اٹھارہ زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ اس واقعہ کے تقریباً دو گھنٹے بعد سدہ کے نواح میں واقع خار نامی گاؤں میں بھی ایک گھر پرمارٹر کا گولہ لگا ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دو افراد ہلاک جبکہ تین کےزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کےمطابق پیرکی دوپہر پارہ چنار سے ایک کلومیٹر دور واقع ایک مقام پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی ہے جس میں ایک عینی شاہد محمد سجاد کے بقول دو افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ محمد سجاد کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ایک گروپ ایک دکان کے پاس کھڑا تھاکہ اوپر سے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ شروع کردی جس کےنتیجے میں وہاں موجود دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ تاہم سرکاری سطح پر ان تینوں واقعات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو فوج نے مساجد اور امام بارگاہ سے لاؤڈاسپیکروں پر یہ اعلان کیا کہ تمام لوگ گھروں تک محدود رہیں اور اگر کسی کو بھی باہر دیکھا گیا تو اسکو گولی مار دی جائے گی۔ عینی شاہدین کے مطابق لوئر کرم کے علاقے سدہ، بالش خیل، سنگینہ، پیواڑ، اڑونی اور آس پاس کے علاقوں میں پیر کی صبح تک فریقین کے درمیان لڑائی جاری تھی جس میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا تھا۔تاہم دوپہر کو بعض علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری ہونے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں دو دن کے انتظار کے بعد ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کا ایک سولہ رکنی جرگہ پیر کی سہ پہر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم ایجنسی پہنچ چکا ہے جہاں پر انہوں نے سنی اور شیعہ رہنماؤں کسیاتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔یہ سولہ رکنی جرگہ سنی اور شیعہ رہنماؤ ں پر مشتمل ہے۔ ادھر کرفیو کے بعد پارہ چنار کو جانے والے تمام راستوں کی بندش کے سبب مقامی لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سکول بند ہیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ان کے پاس سہولیات ناکافی ہیں اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اس وقت بارہ آسامیوں کے خالی ہونے کی وجہ سےصرف ایک ہی سرجن ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد پارہ چنار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق جمعرات کو نامعلوم افراد نے مسجد سے نکلنے والے دو افراد کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا جس کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی تھی۔ | اسی بارے میں فرقہ وارانہ تشدد میں اڑتیس ہلاک17 November, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات16 November, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں12 April, 2007 | پاکستان پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان کالعدم مذہبی تنظیم کے رہنما گرفتار08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||