BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 April, 2008, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کُرم: فرقہ وارانہ تشدد، 26 ہلاک

کرم ایجنسی
کرم ایجنسی میں حالیہ فسادات میں اب تک ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کے مطابق فرقہ وارانہ فسادات کے تازہ واقعات میں دو درجن سے زائد کے افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جس سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد ایک سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لڑائی کا دائرہ اب تیزی سے دیگر علاقوں تک پھیل رہا ہے۔

لوئر کرم ایجنسی کے صدر مقام صدہ سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ منگل کی رات مسلح افراد نے مخیزئی گاؤں پر حملہ کیا جس میں بنگش اور توری قبیلے کے چھبیس افراد ہلاک جبکہ پینتیس زخمی ہوگئے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق مسلح افراد نے گاؤں کو آگ لگائی جس سے درجنوں گھروں جل کر تباہ ہوگئے ہیں۔

ایک قبائلی ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ بلیمینہ سے شروع ہونے والی لڑائی نے اب پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جھڑپوں کا دائرہ لوئر اور اپر کرم کے علاقوں تک پھیل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے لوئر کرم کے علاقوں صدہ، بالش خیل، سنگینہ، ابراہیم زئی، انجیرئی، چاردیوار، جلیمہ اور بغزئی کے علاوہ اپر کرم کے علاقے کڑمان میں بھی لڑائی شروع ہوئی ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔

ادھر صدہ اور لوئر کرم کے دیگر جنگ زدہ علاقوں سے لوگوں نے وسیع پیمانے پر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بدھ کی صبح سے ہزاروں کے تعداد میں لوگ بچوں اور خواتین سمیت گھر بار چھوڑ ٹل، ہنگو اور کوہاٹ کی طرف جارہے ہیں۔

دوسری طرف حکومت کی طرف سے لڑائی روکنے کےلئے تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے جبکہ مقامی جرگے بھی جنگ بندی کرانے میں ناکام ہوچکے ہیں جس سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس لڑائی میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اکثریت بنگش قبیلے کے افراد بتائے جاتے ہیں۔

تقریبناً ایک ہفتہ قبل لوئر کرم کے علاقے بلیمینہ میں شعیہ اور سنی قبائل کے مابین شدید لڑائی شروع ہوئی تھی جس میں ستر کے قریب افراد ہلاک جبکہ کئی دیہات کو نذرآتش کیا جاچکا ہے۔

کرم ایجنسی گزشتہ دو سالوں سے ملکی تاریخ کے خون ریز فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہے جس میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس ایجنسی میں حکومت کی رٹ تقریباًختم ہوچکی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ بھی ہر محاذ پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
کرم ایجنسی:12 ہلاک37 زخمی
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد