BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں آٹھ افراد ہلاک

 کرم ایجنسی (فائل فوٹو)
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ کشیدگی بہت عرصے سے پائی جاتی ہے
فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک قافلے پر حملے اور بعد میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچی سمیت آٹھ افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

تاہم ہسپتال ذرائع زخمیوں کی تعداد اٹھائیس بتا رہے ہیں جن میں دس بچے اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

کرم ایجنسی کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ عطاالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح ان کی سربراہی میں اشیائے خوردنوش اور دیگر ضروری سامان سے لدی چوبیس گاڑیوں پر مشتمل قافلہ صدر مقام پارہ چنار کی طرف جارہا تھا کہ تحصیل صدہ کے پیر قیوم گاؤں کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

ان کے بقول اس حملے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سامان سے لدے ایک ٹرک کو لوٹ لیا گیا۔ ان کے مطابق اس واقعہ کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پیر قیوم گاؤں پر گولہ باری کی جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عطاالرحمن کے بقول گن شپ ہیلی کاپٹر نے دو مرتبہ فائرنگ کی ہے جس کے بعد کارروائی روک دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جب صدہ ہسپتال سے رابطہ کیا گیا تو وہاں پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ ان کے پاس فائرنگ کا نشانہ بننے والے دو افراد کی لاشیں جبکہ اٹھائیس زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ ان کے بقول زخمیوں میں تقریباً دس بچے اور پانچ خواتین شامل ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔


ایک عینی شاہد فضل نور نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر قیوم گاؤں کے قریب گزرنے والے قافلے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور نامعلوم افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس کے پانچ منٹ بعد وہاں پرگن شپ ہیلی کاپٹر پہنچ گئے ۔

ان کے بقول’ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ افراد کی بجائے پورےگاؤں پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں بچے خواتین اور بعض معمر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔‘

کُرم ایجنسی گزشتہ کئی سالوں سے فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں ہے تاہم آجکل شیعہ اور سُنی مسالک کے ماننے والوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہوگئے ہیں اور کئی مرتبہ ہونے والےامن معاہدوں کے باوجود پُر تشدد واقعات میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

دونوں مسالک کے ماننے والے حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ ان کے درمیان پائے جانے والے اختلافی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے نہ صرف فریقین کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں بلکہ کئی مرتبہ فریقین کے درمیان امن معاہدے بھی کروائے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد