کرّم: پینتیس قیدی جیل توڑ کر فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب پینتیس کے قریب قیدی جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ عطاءالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی شب تقریباً ساڑھے نو بجے صدہ سب جیل میں موجود قیدیوں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت جمع ہو کر مرکزی دروازہ توڑ دیا۔ ان کے مطابق اس موقع پر موجود لیویز اہلکاروں نے قیدیوں پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاہم اس کے باوجود چھیاسٹھ میں پینتیس افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فرار ہونے والوں میں چار افراد قتل جبکہ باقی اکتیس معمولی نوعیت کی مقدمات میں مبینہ طور ملوث تھے۔ ان کے بقول انہیں یہ شبہ ہے کہ قتل کے مبینہ کیس میں ملوث دو افراد نے قیدیوں کو ورغلا کر جیل سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کی۔ ان کے مطابق ان دو قیدیوں نے چند دن قبل اپنے مطالبات کے حق میں بھول ہڑتال کی تھی تاہم انہوں نے بات چیت کر کے انہیں مطمئن کردیا تھا۔ اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی قیدی کو دوبارہ گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے تاہم انہوں نے جمعرات کے روز قبائلی جرگوں میں مشران سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیں۔ ان کے مطابق قبائلیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فرار ہونے والے قیدی گھر نہیں آئے ہیں اور جب بھی واپس آئیں گے انہیں حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انگریزوں کے دور کا قانون’ایف سی آر‘ رائج ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو عدالت میں اپیل کرنے کا حق حاصل نہیں اور پو لٹیکل انتظامیہ کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک پابندِ سلاسل رکھ سکتی ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ | اسی بارے میں کرم ایجنسی دھماکے میں چار ہلاک03 June, 2008 | پاکستان امریکی جاسوسی کے الزام میں قتل24 May, 2008 | پاکستان قیام امن میں ناکامی پر جرگہ گرفتار20 May, 2008 | پاکستان کرم: جھڑپیں جاری، مذاکرات شروع14 April, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی: حملے اور جھڑپیں جاری13 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||